اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے، تاہم نتائج کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے مخالف سیاسی اتحاد میں سے کوئی بھی حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ 120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملی ہیں، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے 48 اور عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں، لیکن انتخابی نتائج کے بعد کوئی بھی سیاسی اتحاد اس تعداد تک نہیں پہنچ سکا۔ اس صورت حال کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہم ہوگئے ہیں۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اسے حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

اسرائیلی الیکشن کمیشن نے خصوصی ووٹوں کی گنتی بھی مکمل کرلی ہے، جنہیں ڈبل انویلپ ووٹ کہا جاتا ہے۔ ان میں فوجیوں، قیدیوں، بیرون ملک تعینات سفارت کاروں اور اسپتالوں میں زیر علاج ایسے افراد کے ووٹ شامل تھے جو اپنے معمول کے پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ نہیں ڈال سکے تھے۔ ان ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی سیاسی اتحادوں کی نشستوں کی مجموعی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

دیگر جماعتوں میں گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے 21 نشستیں حاصل کیں، جب کہ بی یاخاد کو 12 اور جوائنٹ لسٹ کو 11 نشستیں ملیں۔ ڈیموکریٹس اور رعام جماعت نے آٹھ، آٹھ نشستیں حاصل کیں۔ یونائیٹڈ تورہ جوڈازم، اسرائیل بیتینو اور اوتسما یہودیت کو سات، سات نشستیں ملیں، جب کہ شاس اور ریلیجس صیہونزم نے چھ، چھ نشستیں حاصل کیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خصوصی ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے، تاہم حتمی سرکاری نتائج کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

انتخابات کے نتائج کے بعد اسرائیل میں مبینہ بیرونی مداخلت، ووٹوں کی خریداری اور عرب شہریوں کی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں شرکت کے حوالے سے سیاسی تنازع بھی سامنے آیا ہے۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ عرب جماعتوں کو مبینہ طور پر ووٹ خریدنے اور غیر قانونی طریقوں سے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کا فائدہ پہنچا۔ جماعت نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابات کو چوری شدہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیٹ ان الزامات کی تحقیقات کررہی ہے کہ قطر اور ترکی سے مبینہ طور پر منسلک غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے عرب ووٹرز کی بڑی تعداد کو ووٹ ڈالنے کے لیے غیر قانونی طور پر متحرک کیا گیا۔

اس کے علاوہ اسرائیلی پولیس کا خصوصی تحقیقاتی یونٹ لاہاو 433 بھی انتخابات میں مبینہ رشوت ستانی کے معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔

تاہم ان الزامات کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے چیئرمین نوم سولبرگ نے مبینہ بیرونی مداخلت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے شن بیٹ سے رابطہ کیا تھا، لیکن کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ انتخابات میں منظم پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات کی تائید کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں۔ قطر نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔

ادھر اپوزیشن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ غیر مصدقہ الزامات کو بنیاد بنا کر انتخابی نتائج یا عرب شہریوں کی ووٹنگ میں شرکت کو مشکوک نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انتخابات میں عرب جماعتوں کی مجموعی طور پر 19 نشستیں اہمیت اختیار کرگئی ہیں، کیونکہ حکومت بنانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی سیاسی اتحاد کو ان کی حمایت یا تعاون کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

موجودہ نتائج کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ عرب جماعتوں کی حمایت سے متبادل حکومت بنانے کا امکان موجود ہے، تاہم کئی یہودی جماعتوں کے لیے ان کے ساتھ اتحاد یا تعاون سیاسی طور پر ایک مشکل معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

حتمی نتائج کی منظوری کے بعد اسرائیلی صدر کسی رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی کوشش کرنے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ اگر کوئی بھی رہنما مطلوبہ حمایت حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو ملک میں ایک بار پھر انتخابات کرانے کی نوبت آسکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles