انسانی دماغ ایک سیکنڈ میں 15 بار حقیقت کے دو روپ کیسے دیکھتا ہے؟

انسانی دماغ ہمارے سامنے موجود چیزوں کو کیسے دیکھتا اور سمجھتا ہے؟ سائنس دان اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔ اب ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دماغ میں ایسی معلومات بھی موجود رہ سکتی ہیں جنہیں اس وقت انسان سرے سے دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے سائنس دانوں کی یہ تحقیق، تحقیقی ویب سائٹ بائیو آرکائیو پر شائع کی گئی ہے۔ تاہم، یہ مقالہ ابھی ماہرین کے باقاعدہ جائزے کے مرحلے سے نہیں گزرا۔

اس تحقیق کے مطابق، دماغ میں تقریباً ہر سیکنڈ میں 15 بار ایسی تبدیلی دیکھی گئی جس میں دماغ کبھی اس چہرے سے متعلق معلومات پر کام کر رہا تھا جو بندروں کو نظر آ رہا تھا اور کبھی اس چہرے سے متعلق معلومات پر جو ان کی نظر سے اوجھل تھا۔

سائنس دانوں نے پہلے 14 انسانوں پر ایک تجربہ کیا، جس میں ہر آنکھ کو الگ تصویر دکھائی گئی۔ جب ایک آنکھ کے سامنے اچانک دوسری تصویر دکھائی گئی تو عموماً انسان کو نئی تصویر نظر آنے لگی، جبکہ پہلی تصویر آنکھ کے سامنے موجود ہونے کے باوجود اس کا شعور نہیں رہا۔

اس کے بعد دو بندروں کے دماغ کی سرگرمی ریکارڈ کی گئی۔ انہیں چہروں کی دو مختلف تصاویر دکھائی گئیں اور دماغ میں لگائے گئے الیکٹروڈز کی مدد سے یہ دیکھا گیا کہ ان کا دماغ ان تصاویر پر کیسے ردعمل دیتا ہے۔

محققین نے دیکھا کہ بندروں کے دماغ میں صرف اسی چہرے سے متعلق معلومات موجود نہیں تھیں جو انہیں نظر آ رہا تھا، بلکہ دوسرے چہرے سے متعلق معلومات بھی دماغی سرگرمی میں سامنے آتی رہیں۔ یہ تبدیلی تقریباً ہر سیکنڈ میں 15 بار ہوئی، حالانکہ بندروں کو نظر آنے والا چہرہ تبدیل نہیں ہو رہا تھا۔

سائنس دان دماغی سرگرمی کو دیکھ کر دونوں چہروں کی تصاویر دوبارہ بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اس سے انہیں معلوم ہوا کہ دماغ نظر آنے والی تصویر اور شعور سے باہر رہنے والی تصویر، دونوں کے بارے میں معلومات محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس تحقیق کا یہ مطلب نہیں کہ انسان ایک ہی وقت میں دو مختلف حقیقتیں دیکھتا ہے یا اس کا شعور ہر سیکنڈ میں 15 بار بند اور کھلتا ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دماغ کسی ایسی تصویر کے بارے میں بھی معلومات پر کام کرتا رہ سکتا ہے جسے انسان اس وقت شعوری طور پر نہیں دیکھ رہا ہوتا۔

محققین کے خیال میں اس عمل کو سمجھنے سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ دماغ کچھ چیزوں کو ہماری توجہ کا حصہ کیوں بناتا ہے، جبکہ دوسری چیزیں ہماری نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود ہمارے شعور میں کیوں نہیں آتیں۔

اس تحقیق میں دماغ کی سرگرمی صرف دو بندروں میں ریکارڈ کی گئی، اس لیے ان نتائج کو تمام انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی رضاکاروں کو صرف یہ جانچنے کے لیے شامل کیا گیا تھا کہ تجربے میں دکھائی جانے والی تصاویر سے متعلق بصری اثر واقعی پیدا ہوتا ہے یا نہیں۔

محققین نے انسانی رضاکاروں کے دماغ کی اسی طرح ریکارڈنگ نہیں کی جس طرح بندروں کے دماغ کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، تحقیق میں پورے دماغ کے بجائے اس کے چند مخصوص حصوں کا جائزہ لیا گیا۔

اس لیے یہ تحقیق ابھی انسانی شعور کے کام کرنے کا حتمی جواب نہیں دیتی، لیکن اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ دماغ ان چیزوں کو کیسے پراسیس کرتا ہے جنہیں ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان چیزوں کو کیسے سنبھالتا ہے جن کا ہمیں شعوری طور پر احساس نہیں ہوتا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles