اسرائیلی انتخابات:حکومت سازی میں عرب اقلیتوں اور جماعتوں کا کردار کتنا اہم ہے؟

اسرائیل میں جاری پارلیمانی انتخابات کے دوران محض وزیراعظم بنجمنن نیتن یاہو کے اقتدار کی بقا ہی مرکزی سوال نہیں ہے، بلکہ اصل تنازع اس بات پر ہے کہ آیا کوئی بھی سیاسی کیمپ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد پوری کر پائے گا یا پھر فیصلے کا انحصار عرب سیاسی جماعتوں کے تعاون پر ہوگا۔

متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہونے والے اس الیکشن میں 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، اور اگر کوئی بھی فریق یہ ہندسہ عبور نہ کر سکا تو مقابلے میں موجود جماعتیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔

اس انتخابی معرکے کا ایک نمایاں تضاد یہ ہے کہ عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ ہیں اور ان کی قیادت کرنے والی جماعتیں پارلیمنٹ میں اہم نشستیں حاصل کر سکتی ہیں، تاہم انتخابی مہم کے دوران کھلے عام ان کی حمایت حاصل کرنا نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک اور اپوزیشن دونوں کے لیے سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ بنا ہوا ہے۔

عرب سیاسی نمائندگی کوئی ایک متحد بلاک نہیں ہے، بلکہ رعام (یونائیٹڈ عرب لسٹ) اور دیگر عرب قیادت والی جماعتوں کی ترجیحات اور یہودی قیادت والی جماعتوں کے ساتھ تعاون کا طریقہ کار مختلف ہے۔ انتخابات کے بعد ان کے فیصلے اس بات پر منحصر ہوں گے کہ وہ کتنی نشستیں جیتتے ہیں، انہیں کیا مراعات پیش کی جاتی ہیں اور ان کے ووٹرز کے مفادات کس چیز میں ہیں۔

ماضی میں بھی اس کی ایک واضح مثال موجود ہے جب 2021 میں منصور عباس کی قیادت میں رعام نے نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی اتحادی حکومت میں شامل ہو کر نیتن یاہو کا طویل دورِ اقتدار ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تاہم 7 اکتوبر کے حملوں اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں سیاسی ماحول یکسر بدل چکا ہے اور اب عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا مزید متنازع ہو چکا ہے۔

نیتن یاہو کے مخالفین کے لیے مشکل یہ ہے کہ انہیں وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے ایسے سیاسی سمجھوتوں پر عمل کرنا پڑ سکتا ہے جنہیں ان کے ووٹرز ہضم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں، جبکہ نیتن یاہو پہلے ہی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر انحصار کر رہے ہیں۔

انتخابات کے حتمی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ کیسا رہتا ہے، چھوٹی جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کیا رخ اختیار کرتی ہے اور عرب ووٹرز کتنی بڑی تعداد میں حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔

اگر انتخابی نتائج غیر حتمی رہے تو مہم کے دوران کھل کر بات چیت سے گریز کرنے والی یہ عرب جماعتیں ایک بار پھر حکومت سازی کے عمل میں کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتی ہیں، اور اصل امتحان ووٹوں کی گنتی کے بعد اس وقت شروع ہوگا جب سیاسی جماعتیں انتخابی نعروں کو پیچھے چھوڑ کر اکثریت حاصل کرنے کی مشکل عملی جدوجہد میں جٹ جائیں گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles