کراچی: بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنانے والی تین کمپنیاں بے نقاب، 12 بچے بازیاب


کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے بچوں کو ملوث کرکے اینیمیٹڈ پورنوگرافی تیار کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین کمپنیوں کا سراغ لگایا اور 12 بچوں کو بازیاب کرالیا۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے دو روز قبل ایک مقام پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طور پر اینیمیٹڈ فحش مواد تیار کیا جا رہا تھا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے طارق نواز کے مطابق کارروائی کے دوران حراست میں لیے گئے 42 افراد میں سے 13 کو اینیمیٹڈ فحش مواد بنانے اور اس کے ذریعے بلیک میلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر باضابطہ گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزمان خواتین کی جعلی شناخت کے تحت سوشل میڈیا اکاؤنٹس بناتے اور ان پر فحش کلپس اپ لوڈ کرتے تھے۔ بعض خریدار پہلے سے تیار کردہ کلپس خریدتے تھے، جب کہ کچھ اپنی پسند کے مطابق خصوصی مواد تیار کرواتے تھے۔
طارق نواز کے مطابق ملزمان مواد فراہم کرنے کے بعد خریداروں کو بھی مبینہ طور پر بلیک میل کرتے تھے۔ حکام اس نیٹ ورک سے وابستہ مقامی اور بین الاقوامی خریداروں کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس کاروبار میں ملوث دیگر افراد کا سراغ لگایا جاسکے۔
اس سے قبل کراچی میں بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر بیرونِ ملک کلائنٹس کو فروخت کرنے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے تمام ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا تھا۔
سائبر کرائم حکام نے اظہر، انفال اور انصر سمیت دس سے زائد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو گلستان جوہر کی رابعہ سٹی سے گرفتار کیا گیا، جب کہ مقدمے میں مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کرنا ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان بچوں کی ویڈیوز کو اینیمیشن میں تبدیل کرکے امریکا اور جرمنی میں فروخت کرتے تھے۔ ملزمان آرٹس ڈیزائن، پکسل کرافٹ اور آرٹ آفس کے نام سے کمپنیاں چلا رہے تھے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کلائنٹس سے رابطہ کرتے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles