
یمن کی حکومت نے حوثی گروپ پر جنوبی شہر عدن میں بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام لگایا ہے، جب کہ حوثیوں نے سعودی فورسز کے زیر نگرانی بحری فوجی اڈے اور النصر کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی فضائی حملوں میں صنعاء اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں 16 افراد کی ہلاکت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق جنوبی یمن کے ساحلی شہر عدن میں چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ہوئے، تاہم ان کی وجہ اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یمن کی وزارت اطلاعات نے حوثیوں پر عدن میں بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ بعد ازاں حوثیوں نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے شہر میں سعودی فورسز کے زیر نگرانی النصر کیمپ اور بحری فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی فورسز نے عدن میں سعودی فوجی موجودگی کو ہدف بنایا۔ عدن بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا عبوری مرکز ہے، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔
یمن کی وزارت داخلہ نے سرکاری خبر رساں ادارے ’سبا‘ کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں کوسٹ گارڈز کے ہیڈکوارٹرز اور ایک دوسرے مقام پر واقع ان کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم وزارت نے ہوائی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پر حملے کا ذکر نہیں کیا۔
صنعاء اور الحدیدہ میں ہلاکتوں کی اطلاعات
حوثیوں کے زیر انتظام ٹی وی چینل ’المسیرہ‘ نے رپورٹ کیا کہ سعودی فضائی حملوں میں یمن کے دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں شہری ہلاک ہوئے۔
’المسیرہ‘ ٹی وی چینل کے مطابق صنعاء میں ایک گھر پر فضائی حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ صنعاء گورنری میں سیمنٹ فیکٹری کے کارکنوں کی رہائشی عمارت پر ایک اور حملے میں چھ خواتین اور ایک بچہ ہلاک، جب کہ تین افراد زخمی ہوئے۔
الحدیدہ میں ایک گھر پر حملے کے بارے میں ٹی وی چینل نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، جن میں خاندان کا سربراہ، اس کے دو بچے اور دو بیویاں شامل تھیں، ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔
سعودی عرب میں میزائل حملوں کے انتباہات
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کہا کہ اس نے سعودی عرب کے مغربی شہروں طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے دو میزائل روک لیے ہیں۔
سعودی سول ڈیفنس ایجنسی نے طائف، ینبع اور مکہ مکرمہ سمیت مغربی علاقوں کے لیے ممکنہ خطرے کا انتباہ جاری کیا، تاہم چند منٹ بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ شہریوں کو قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت دی گئی اور میزائلوں و ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں سے متعلق تصاویر یا معلومات شیئر کرنے کے خلاف قانونی تنبیہ بھی کی گئی۔
حوثی گروپ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمد کا اہم مرکز ہے، جس کے ذریعے مملکت آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باوجود خام تیل کی ترسیل جاری رکھ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رواں ماہ ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اسی ہفتے امریکا نے حوثیوں کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔
یمن میں خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرگئی
واضح رہے کہ یمن میں حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جنگ 2022 کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے دوران جولائی میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ حوثیوں نے تیز رفتار کارروائی کے دوران بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس سے خطے میں عدم استحکام اور تیل کی منڈیوں میں خلل مزید بڑھ گیا۔
سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے 2015 میں یمن کی جنگ میں مداخلت کی تھی۔ کئی سال سے جاری اس تنازع نے ملک کو شدید تباہی سے دوچار کیا اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا۔
مصر نے سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے لیے فوج بھیجنے کی تجویز دی ہے، جب کہ برطانیہ اور فرانس نے بھی خلیجی مملکت کے تحفظ کے لیے اپنی افواج کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ ہفتے کو متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن اور ریاض میں امریکی سفارت خانے نے اپنے سفری انتباہات میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ممکنہ مسلح حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔