اسٹار لنک کی بندش: یوکرینی ڈرون مکھیوں کی طرح آسمان سے گرنے لگے

یوکرین کی فوج کو امریکی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارشیلڈ میں خلل کے باعث ایک ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ڈرونز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ روسی فوجی اہداف پر حملوں کی کارروائیاں بھی تین روز تک تقریباً رک گئیں۔ یوکرینی فوج کے ایک سینئر کمانڈر نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ روسی فوجی اہداف کی جانب بڑھنے والے ڈرونز کی ویڈیو اچانک بند ہوگئی، جس کے بعد کئی ڈرون فضا سے نیچے گر گئے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹارشیلڈ امریکی محکمہ دفاع کی مالی معاونت سے چلنے والی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جسے یوکرین کی فوج اپنے بعض ڈرونز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ سروس میں خلل کے باعث یوکرینی فوج کے بعض یونٹس کو روسی کمانڈ پوسٹوں اور ایندھن کے مراکز پر حملے روکنے پڑے۔ یوکرین روسی فوج کی پیش قدمی سست کرنے اور اگلے محاذ پر اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے ان اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔

اس واقعے نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ڈرونز کی رفتار صرف 40 میل فی گھنٹہ ہونے پر بھی ان کا اسٹارشیلڈ سے رابطہ منقطع ہوجاتا تھا۔ صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم اب بھی 100 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر پرواز کرنے والے ڈرونز کو رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ پابندی ان یوکرینی فوجی یونٹس کے لیے خاص طور پر مسئلہ بن گئی ہے جنہیں روسی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز تیز رفتاری سے اڑانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یوکرین کے بریگیڈیئر جنرل آندری بیلیتسکی نے بتایا کہ اس سے پہلے اسٹارشیلڈ سے منسلک ڈرونز 250 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے بھی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے پرواز کرسکتے تھے۔ ان کے مطابق سرکاری طور پر رفتار کی حد پہلے ہی 100 میل فی گھنٹہ مقرر تھی، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جارہا تھا۔

ان پابندیوں نے یوکرین کے فضائی دفاع کو بھی متاثر کیا ہے۔ روسی ڈرونز کو شہروں تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر ڈرونز کو اپنے اہداف سے زیادہ تیز رفتار ہونا پڑتا ہے، لیکن نئی پابندیوں سے ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

بیلیتسکی نے کہا کہ فضائی دفاع کے لیے رفتار کی حد کم کرنا ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے، جو براہ راست ہمارے شہروں کے تحفظ کو کمزور کرتا ہے، اور سب سے پہلے ہماری شہری آبادی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکی محکمہ دفاع نے یہ قدم اٹھایا تو یہ بلاشبہ یوکرین کی شہری آبادی کے لیے ایک غیر دوستانہ اقدام تھا۔

یوکرین کو خدشہ ہے کہ یہ پابندیاں روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر یوکرینی حملوں کے ردعمل میں لگائی گئی ہوں اور ان کے ذریعے کیف کو جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ یوکرینی حکام نے امریکی فوجی انٹیلی جنس کی معلومات کے تبادلے میں کمی اور امریکی انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کی شکایات بھی کی ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے جان بوجھ کر یوکرین کی مدد روکنے کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یوکرین میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس معاملے پر کہا کہ یہ تبدیلی میں نے نہیں کی اور ان کے علم کے مطابق سروس پہلے کی طرح ہی چل رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک روز بعد کہا کہ یوکرین میں اسٹارلنک کی رفتار کم ہونے کا واقعہ کسی حد تک پیش آیا تھا، تاہم ان کے مطابق ان کی معلومات کے تحت سروس بحال کردی گئی ہے۔

اسٹارشیلڈ، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کا فوجی مقاصد کے لیے تیار کردہ ورژن ہے۔ یورپی ممالک یوکرین کو اس سروس تک رسائی فراہم کرنے کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ یوکرین کے بعض فوجی یونٹس ڈرونز کو کنٹرول کرنے کے لیے اسٹارشیلڈ استعمال کرتے ہیں، جبکہ دیگر یونٹس رابطوں کے لیے عام اسٹارلنک سروس پر انحصار کرتے ہیں۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اسٹارشیلڈ کو امریکی محکمہ دفاع کنٹرول کرتا ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے اسٹارشیلڈ میں تبدیلیوں کو ایک منصوبہ بند کارروائی قرار دیا ہے اور اس معاملے پر امریکا سے وضاحت طلب کی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں زیلنسکی کے اس بیان پر تنقید کی کہ سروس میں خلل کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

بیسنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میں کسی نے ایسا نہیں کیا، اور میرے خیال میں صدر زیلنسکی کی جانب سے اس طرح کا الزام لگانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles