ٹیسلا کی اُڑتی کار کی ٹیکنالوجی اور بلّی میں کیا تعلق ہے؟

بلی بلندی سے گرتے ہوئے ہوا میں اپنا جسم گھما کر پاؤں کے بل اتر سکتی ہے۔ یہ قدرتی صلاحیت سائنس دانوں کے لیے طویل عرصے سے دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔ اب ٹیسلا کی نئی روڈسٹر میں اسپیس ایکس کی راکٹ طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا تصور بھی اسی طرح ہوا میں رخ بدلنے سے جڑا ہے۔ لیکن ایک بلی اور بھاری گاڑی یہ کام بالکل مختلف طریقوں سے کیسے کر سکتی ہیں؟

انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس سوال کا جواب طبیعیات کے چند بنیادی اصولوں میں چھپا ہے۔ بلی اپنی ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں کی پوزیشن بدل کر گھومتی ہے، جب کہ گاڑی کو اس مقصد کے لیے دباؤ کے تحت محفوظ ہوا اور خصوصی تھرسٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔

بلی کی اس صلاحیت کو سائنسی زبان میں ’رائٹنگ ریفلیکس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خودکار عمل ہے جس کے ذریعے گرتی ہوئی بلی اپنا جسم موڑ کر پاؤں کے بل اترنے کی کوشش کرتی ہے۔ فرانسیسی سائنس دان ایٹین ژول میری نے 1894 میں گرتی ہوئی بلی کی تصاویر بنا کر اس عمل کا مطالعہ کیا تھا۔

بظاہر یہ عمل طبیعیات کے ایک اصول کے خلاف محسوس ہوتا ہے، جس کے مطابق کسی جسم کی مجموعی زاویائی حرکت بیرونی ٹارک کے بغیر تبدیل نہیں ہوتی۔ پھر بلی ہوا میں کسی چیز کو دھکا دیے بغیر اپنا رخ کیسے بدلتی ہے؟

اس کا راز جسم کے مختلف حصوں کی حرکت میں ہے۔ بلی اپنی اگلی ٹانگیں سمیٹتی اور پچھلی ٹانگیں پھیلاتی ہے، پھر ان کی پوزیشن بدل کر جسم کے اگلے اور پچھلے حصے کو مختلف انداز میں گھماتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے پورے جسم کا رخ تبدیل کر سکتی ہے۔

اسے گھومنے والی کرسی کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بازو پھیلانے سے انسان کو گھمانا مشکل ہوتا ہے، لیکن بازو جسم کے قریب لانے سے وہ زیادہ تیزی سے گھوم سکتا ہے۔ طبیعیات میں جسم کی گردش کے خلاف مزاحمت کو ’مومنٹ آف اِنرشیا‘ کہا جاتا ہے۔ بلی بھی جسم کے مختلف حصوں کا مرکز سے فاصلہ بدل کر اس اصول سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

بلی کا جسم لچک دار ہونے کی وجہ سے یہ عمل انتہائی تیزی سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ کسی بیرونی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس دوران کسی حساب کتاب میں مصروف ہوتی ہے۔

ٹیسلا روڈسٹر کے لیے ہوا میں قلا بازی کیسے ممکن ہوئی؟

گاڑی بلی کی طرح اپنی ٹانگیں سمیٹ یا ریڑھ کی ہڈی موڑ نہیں سکتی۔ اس کے بجائے ٹیسلا روڈسٹر کے لیے راکٹ طرز کے تھرسٹرز استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جنہیں اسپیس ایکس کی ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے۔

یہ نظام دباؤ کے تحت محفوظ ہوا کو مختلف سمتوں میں خارج کرتا ہے۔ جب ہوا تیزی سے ایک سمت میں نکلتی ہے تو نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق گاڑی پر مخالف سمت میں قوت لگتی ہے۔ یہی اصول اس وقت بھی کام کرتا ہے جب ہوا سے بھرا غبارہ چھوڑنے پر مخالف سمت میں حرکت کرتا ہے۔

نمائش سے متعلق رپورٹس میں گاڑی کے لیے تقریباً 250 سے 260 کلوگرام دباؤ والی ہوا اور جسم کے گرد 10 نوزلز کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ان تفصیلات کو ٹیسلا کے مکمل طور پر تصدیق شدہ تکنیکی اعداد و شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔

گاڑی کو گھمانے کے لیے ہوا اس کے مرکز سے کچھ فاصلے پر خارج کی جاتی ہے، جس سے ’ٹارک‘ پیدا ہوتا ہے۔ یہ گھمانے والی قوت ہے۔ مثال کے طور پر دروازے کو قبضوں کے قریب دھکا دینے کے مقابلے میں ہینڈل پر دھکا دینے سے کھولنا زیادہ آسان ہوتا ہے، کیونکہ وہاں قوت مرکزِ گردش سے زیادہ فاصلے پر لگتی ہے۔

یوں بلی جسم کی ساخت بدل کر گھومتی ہے، جب کہ گاڑی ہوا خارج کرکے اپنے اوپر قوت پیدا کرتی ہے۔

بلی کو اپنا رخ درست کرنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ تقریباً 90 سینٹی میٹر کی بلندی سے گرنے کی صورت میں اسے زمین تک پہنچنے میں لگ بھگ 0.43 سیکنڈ لگ سکتے ہیں۔ اس مختصر وقت میں اسے جسم گھمانے اور پاؤں درست سمت میں لانے ہوتے ہیں۔

دوسری طرف، تقریباً 2,000 کلوگرام وزنی گاڑی کو کششِ ثقل کے مقابلے میں تقریباً 19,620 نیوٹن قوت درکار ہوگی تاکہ وہ ہوا میں برقرار رہ سکے۔

ایک حسابی تخمینے میں فرض کیا گیا ہے کہ تھرسٹر سے نکلنے والی ہوا کی رفتار 589 میٹر فی سیکنڈ ہو تو گاڑی کو ہوا میں رکھنے کے لیے تقریباً 33 کلوگرام ہوا فی سیکنڈ استعمال ہوگی۔ اس حساب سے 250 کلوگرام ہوا اسے تقریباً ساڑھے سات سیکنڈ تک ہوا میں رکھ سکتی ہے۔ زیادہ مؤثر نظام میں یہ دورانیہ تقریباً نو سیکنڈ اور کم مؤثر نظام میں چھ سیکنڈ ہو سکتا ہے۔

یہ ٹیسلا کے تصدیق شدہ نتائج نہیں، بلکہ مخصوص مفروضوں پر مبنی اندازے ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد طویل پرواز کے بجائے مختصر فضائی حرکات ہو سکتا ہے۔

گاڑی کو گھومنے اور محفوظ اترنے میں کتنا وقت لگے گا؟

فروری 2026 میں جاپان کی یاماگوچی یونیورسٹی کے محققین نے بلی کی ریڑھ کی ہڈی کے مختلف حصوں کا مطالعہ کیا۔ ان کی تحقیق کے مطابق سینے کے قریب ریڑھ کی ہڈی نسبتاً زیادہ لچک دار، جب کہ کمر کا نچلا حصہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔ دو بلیوں کو نرم گدے پر گرتے ہوئے فلمایا گیا۔ ایک بلی آٹھ میں سے آٹھ مرتبہ اور دوسری 8 میں سے 6 مرتبہ درست انداز میں پاؤں کے بل اتری۔ مشاہدات میں جسم کا اوپری حصہ نچلے حصے سے پہلے گھومتا دکھائی دیا۔

گاڑی کے لیے ایک نظریاتی مثال میں 2,000 کلوگرام وزن، چار میٹر لمبائی اور دو میٹر چوڑائی فرض کی گئی ہے۔ اگر تھرسٹر 3,000 نیوٹن قوت مرکز سے 1.5 میٹر کے فاصلے پر پیدا کرے تو حساب کے مطابق گاڑی کو 180 ڈگری گھمانے میں تقریباً 2.9 سیکنڈ لگ سکتے ہیں۔ اس دوران تقریباً 15 کلوگرام ہوا استعمال ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ حقیقی گاڑی کی آزمائش کے نتائج نہیں بلکہ مفروضوں پر مبنی حساب ہے۔

محفوظ لینڈنگ ایک الگ چیلنج ہے۔ اگر گاڑی دو میٹر کی بلندی سے نیچے آئے تو ہوا کی مزاحمت کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کی زمین سے ٹکرانے کی رفتار تقریباً 23 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو سکتی ہے۔ اسے سست کرنے کے لیے مزید تھرسٹرز استعمال کرنا ہوں گے۔ مذکورہ حساب کے مطابق اس مقصد کے لیے تقریباً 21 کلوگرام ہوا درکار ہو سکتی ہے، تاہم حقیقی حالات میں ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔

کیا بلی اور گاڑی ہر بار محفوظ اتریں گی؟

بلیوں کے بارے میں یہ تصور درست نہیں کہ وہ ہر حال میں محفوظ رہتی ہیں۔ 1998 سے 2001 کے دوران بلندی سے گرنے کے بعد علاج کے لیے لائی گئی 119 بلیوں پر تحقیق میں گرنے کی اوسط بلندی چار منزلیں تھی۔ ایسے واقعات کے جائزوں میں تقریباً 90 فیصد بلیوں کے زندہ بچنے کی اطلاع دی گئی، لیکن یہ شرح صرف ان بلیوں کی تھی جو ویٹرنری ڈاکٹر تک پہنچیں۔ اس لیے اسے تمام بلیوں کے زندہ بچنے کا درست امکان نہیں سمجھا جا سکتا۔

ٹیسلا کی گاڑی کے لیے بھی خطرات موجود ہیں۔ دورانِ گردش کوئی تھرسٹر ناکام ہو جائے تو گاڑی کے پاس بلی جیسا قدرتی متبادل نہیں ہوگا۔ توازن، نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور محفوظ لینڈنگ جیسے معاملات کی عملی جانچ ضروری ہے۔

ٹیسلا روڈسٹر کی پیداوار کا ہدف 2028 بتایا گیا ہے، لیکن اس کی فضائی صلاحیتیں اور محفوظ لینڈنگ ابھی ثابت ہونا باقی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles