شراب برآمدگی کیس: شرجیل میمن سمیت تمام ملزمان 8 سال بعد بری


کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ضیاء الدین اسپتال میں شراب برآمد ہونے کے دعوے سے متعلق آٹھ سال پرانے مقدمے میں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت تمام نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
عدالت نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور ان کی سزا کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔
مقدمے میں شرجیل انعام میمن کے علاوہ مشتاق، شکر دین، محمد جان، حبیب اللہ اور نسیم شجاع بھی نامزد تھے۔ عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر تمام ملزمان کی بریت کا حکم دیا۔
ملزمان کی وکیل عروسہ میمن کے مطابق مقدمے میں پیش کی گئی فرانزک اور طبی رپورٹس سے ظاہر ہوا تھا کہ اسپتال کے کمرے سے ملنے والی بوتلوں میں شراب کے بجائے شہد اور زیتون کا تیل موجود تھا۔

یہ معاملہ ستمبر 2018 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کراچی کے ضیاء الدین اسپتال کا دورہ کیا، جہاں شرجیل میمن زیرِ علاج تھے۔
دورے کے دوران چیف جسٹس نے ان کے کمرے میں بوتلوں اور سگریٹ کے پیکٹ کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔
بعد ازاں ان بوتلوں میں شراب ملنے کا دعویٰ سامنے آیا، جس پر مقدمہ درج کیا گیا اور اسپتال کے کمرے کو سیل کرنے کے بعد شرجیل میمن کو جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
اس وقت پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمرے میں موجود بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل تھا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی چیف جسٹس کے اسپتال کے دورے پر تنقید کی تھی۔ دوسری جانب ثاقب نثار نے بعد میں وضاحت کی تھی کہ وہ اسپتال کے بجائے سب جیل کے معائنے کے لیے گئے تھے۔
ستمبر 2018 میں سامنے آنے والی کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے مطابق، ایک بوتل میں زیتون کا تیل اور دوسری میں شہد موجود تھا۔ رپورٹ پر حکومت سندھ کی لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد حسین کے دستخط تھے۔
وکیلِ دفاع نے بھی ان رپورٹس کو ملزمان کے حق میں اہم قرار دیا۔ تاہم، عدالت کے فیصلے کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بریت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے کے لیے قابلِ قبول اور ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles