
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حکومتی قرار داد کے حق میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ارکان کو خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال اور وفاقی حکومت کے مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور ارکان کو قومی اسمبلی میں نئی قانون سازی سے متعلق بھی اعتماد میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پراعتماد میں لیا جب کہ کمیٹی کو اس معاملے پر بریفنگ بھی دی گئی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد اور مختلف بلوں پر ووٹ دے گی۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق حکمت عملی تیار کرلی ہے، جس کی توثیق کے لیے کل قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو طلب کرلیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا کے حالات اور وفاقی حکومت کے آئندہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی ارکان کو خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال اور وفاقی حکومت کی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔ شرکا کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات اور اس سلسلے میں حکومت کے آئندہ اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کرنے اور اس کی منظوری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی ارکان کو حکومت کی آئندہ حکمت عملی پر اعتماد میں بھی لیا گیا۔
ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ مجبوری میں کیا، ملک کی خوشحالی اور وقار سے بڑی کوئی چیز نہیں، یہ دھرنے یہ لانگ مارچ، کون نہیں جانتا کہ 2013 میں ڈی چوک پر گندے کپڑے دھوتے تھے، قبریں کھودی، کیا کیا تماشہ ہو، چینی صدر کا دورہ مؤخر ہوگیا، یہ لوگ ملک کی ترقی کو ختم کرنے کے در پے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دھرنے، گالی گلوچ اور الزام تراشی کی گئی، جو مغلظات اور باتیں کیں وہ دشمن بھی نہیں کرتا، آپ دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، افواج پاکستان کے شہیدوں پر دشنان طرازی کرتے رہے، آپ دہشت گرد کے خلاف ایک لفظ کہنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
قومی اسمبلی میں کل اہم کارروائی متوقع
دونوں جماعتوں کی پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق وفاقی حکومت کے اقدامات پر قومی اسمبلی میں کارروائی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد کی منظوری کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے گورنر راج سے متعلق حکومتی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ایمرجنسی کی توثیق اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قراردادوں کی حتمی منظوری اور ان کے قانونی اثرات کا انحصار متعلقہ آئینی و پارلیمانی کارروائی پر ہوگا۔