آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے بعد احتجاج ترکیہ تک پہنچ گیا، باکو اور انقرہ کے روابط متاثر

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پہننے سے متعلق نئے ضوابط کے خلاف احتجاج کا دائرہ ترکیہ تک پھیل گیا ہے، جہاں استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ آذربائیجان میں بھی طالبات، اساتذہ اور دیگر شہری اس فیصلے پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کے خلاف مہم جاری ہے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کی قیادت کے بیانات نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔

آذربائیجان کی حکومت نے گزشتہ ماہ اسکولوں کے یونیفارم سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی تھی۔ ان قواعد میں حجاب پر براہِ راست پابندی کا واضح ذکر نہیں، تاہم ایسے لباس پر اعتراض کیا جا رہا ہے جسے حکام کے مطابق ملک کے سیکولر اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔

ان ضوابط کے نفاذ کے بعد بعض اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات اور اساتذہ کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی اے‘ کے مطابق، نئے ضوابط کا مقصد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے یکساں لباس کا نظام برقرار رکھنا اور تعلیمی اداروں میں ملک کے سیکولر اصولوں کی عکاسی کرنا ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ لباس سے متعلق مقررہ معیارات طلبہ اور تدریسی عملے کے لیے یکساں ضابطہ برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے، تاہم ملک کا آئین اسے سیکولر ریاست قرار دیتا ہے اور مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے ضوابط کا دفاع تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط، اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیار اور اسکولوں کے وقار کے تناظر میں کیا جا رہا ہے، جبکہ مخالفین اسے مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔

حجاب ذاتی انتخاب ہے: خاتون ٹیچر

حجاب سے متعلق نئے ضوابط سے متاثر ہونے والی آذربائیجان میں ٹیچر زہرا حسنوا نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اب اسکول میں حجاب نہیں پہن سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال نے انہیں جذباتی طور پر متاثر کیا ہے۔ زہرا حسنوا کے مطابق، حجاب پہننا ایک ذاتی انتخاب ہے اور اگر کوئی خاتون مستقبل میں اسے اتارنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ فیصلہ بھی اسی کا ہونا چاہیے۔

ان کا مؤقف اس تنازع کے اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے جس میں متاثرہ خواتین لباس کے انتخاب کو اپنی مذہبی آزادی سے جوڑ رہی ہیں، جبکہ حکومت تعلیمی اداروں میں یکساں ضوابط کے نفاذ پر زور دے رہی ہے۔

آذربائیجان میں احتجاج اور کلاسوں کا بائیکاٹ

نئے ضوابط کے خلاف آذربائیجان میں احتجاج کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں طالبات کو حجاب پہننے والی اپنی اساتذہ اور طالبات کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بعض خواتین اساتذہ کو حجاب پہننے کی وجہ سے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

خواتین اساتذہ کو حجاب پہننے کی وجہ سے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کم از کم دو اسکولوں کے طلبہ نے حجاب سے متعلق ضوابط کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ بھی کیا۔ ان واقعات کے بعد یہ معاملہ تعلیمی اداروں کے لباس کے قواعد سے آگے بڑھ کر مذہبی آزادی اور انفرادی حقوق سے متعلق بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

اس تنازع کے خلاف جیل میں قید صحافی پولاد اسلانوف نے بھی بھوک ہڑتال شروع کی۔ اسلانوف کو 2020 میں سنگین غداری کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کی اہلیہ گلمیرا اسلانوا نے فیس بک پر ان کا پیغام شیئر کیا، جس میں اسلانوف کا کہنا تھا کہ جیل میں ہونے کے باوجود وہ اپنے آئینی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور بھوک ہڑتال ہی ان کے پاس احتجاج کا دستیاب ذریعہ ہے۔

علیئیف اور اردوان کے بیانات

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں ترکیہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کے طرزِ زندگی میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کے اس بیان کو ترکیہ میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس بیان میں ترکیہ کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دنیا بھر میں مسلم خواتین کو درپیش امتیازی سلوک کا عمومی طور پر ذکر کیا تھا۔

تاہم ان کے خطاب کو آذربائیجان کے اسکولوں کے نئے ضوابط سے براہِ راست منسلک کرنے کے لیے واضح شواہد درکار ہیں۔

اس معاملے پر ترکیہ کی حکومت کی جانب سے آذربائیجان کے نئے ضوابط کے حوالے سے کسی باضابطہ ردعمل کی اطلاع اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

اس لیے فی الحال دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی نوعیت اور سفارتی سطح پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

آذربائیجان میں حجاب سے متعلق ضوابط پر جاری احتجاج نے ایک اہم سوال کو نمایاں کیا ہے، تعلیمی اداروں میں یکساں لباس اور سیکولر اصولوں کے نفاذ کے ساتھ مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے؟

فی الحال یہ واضح نہیں کہ حکومت احتجاج کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ضوابط میں کوئی تبدیلی کرے گی یا موجودہ پالیسی برقرار رکھے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles