
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کار بھیڑ بکریوں کے فارمز اور مویشیوں کے ریوڑ کے زریعے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے اور انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں 100 سے زیادہ فلسطینی بستیاں بے دخل یا ختم ہو چکی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آباد کاروں نے مویشیوں کے ریوڑ فلسطینی آبادیوں اور گھروں تک پہنچا دیے ہیں، جبکہ بھیڑ بکریوں کے فارمز کا پھیلاؤ مغربی کنارے کے تقریباً 20 فیصد رقبے تک ہو چکا ہے اور مقامی آبادی کے لیے اپنے گھروں، کھیتوں اور مویشیوں تک رسائی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے تقریباً 200 فارمز قائم ہوئے ہیں۔ ان کے ذریعے فلسطینیوں کی زرعی زمینوں اور مویشی چرانے کے علاقوں تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر آباد کار بھیڑ بکریوں کو فلسطینیوں کے گھروں کے اندر لے جاتے ہیں، جس سے درختوں اور پودوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس صورت حال نے مقامی خاندانوں کے لیے اپنے گھروں میں رہنا، زمینوں پر کاشت کاری کرنا اور روزمرہ زندگی جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کی حالیہ رپورٹ میں مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جہاں فلسطینیوں اور اسرائیلی آباد کاروں کے درمیان زمین پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھیڑ بکریوں کے فارمز کی توسیع محض مویشی پالنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے فلسطینی آبادیوں کے آس پاس زمین پر آباد کاروں کی موجودگی بڑھ رہی ہے۔
بھیڑ بکریوں کے ریوڑ زمین پر قبضے کا ذریعہ کیسے بن رہے ہیں؟
رپورٹ کے مطابق، مغربی کنارے میں بھیڑ بکریوں کے ایک فارم کے شریک بانی موردخائی منسٹر اپنے ریوڑ کو آس پاس کی فلسطینی آبادیوں کے اندر تک لے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مویشی چرانے کے ذریعے زمین کی حدود متعین کی جا سکتی ہیں اور اس طرح دوسروں کو وہاں مویشی چرانے، پودے لگانے اور تعمیرات کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
منسٹر نے اس طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ان کی بھیڑ بکریاں چریں گی، وہاں دوسرے لوگ اپنے جانور نہیں لا سکیں گے اور نہ ہی کاشت کاری یا تعمیرات کر سکیں گے۔
المغیر قصبے کے فلسطینی استاد وحید مرزوق نے بتایا کہ آباد کار بعض اوقات گھروں کے دروازے کھول کر بھیڑ بکریوں کو اندر لے جاتے ہیں، جہاں جانور گھر کے آس پاس موجود درختوں کو کھاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں طویل عرصے سے زمین پر کنٹرول کے لیے کشیدگی جاری ہے، تاہم بھیڑ بکریوں کے فارمز کے ذریعے فلسطینی آبادیوں کے اندر تک رسائی حاصل کرنے کا طریقہ اس تنازع میں ایک اہم کردار اختیار کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی آبادیوں کے رہائشیوں کو اپنے علاقوں سے نکلنا پڑا ہے۔
آباد کاروں کے تشدد کے 1600 سے زیادہ واقعات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں ’’ہل ٹاپ یوتھ‘‘ کے نام سے معروف نوجوان بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بہت سے نوجوان فلسطینی دیہاتوں اور کھیتوں میں داخل ہوتے، زیتون کے درخت کاٹتے، گاڑیوں کو آگ لگاتے، املاک کو نقصان پہنچاتے اور کسانوں کو ہراساں کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے آغاز سے رپورٹ کی تیاری تک مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد سے متعلق واقعات کی تعداد 1600 سے تجاوز کر چکی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تشدد میں ملوث آباد کاروں کے ایک سخت گیر گروہ میں تقریباً 500 افراد شامل ہیں، جبکہ مزید 1000 افراد مختلف اوقات میں ان کے ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں۔
فلسطینی خاندان اپنی ہی زمین اور گھر تک رسائی سے محروم
رپورٹ میں جناتہ گاؤں کے فرج خاندان کی صورت حال کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ خاندان کے مطابق، ان کی زمین کی ملکیت نسل در نسل ان کے پاس ہے اور ان کے پاس اس کے دستاویزات بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی زمین اور گھر تک رسائی برقرار نہیں رکھ پا رہے۔
حسن فرج نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 26 مارچ کو تقریباً 20 سے 25 اسرائیلی آباد کار ان کے خاندان کی زمین پر داخل ہوئے اور وہاں ایک خیمہ نصب کر دیا۔ بعد میں یہ مقام ہل ٹاپ یوتھ کے لیے ایک چوکی بن گیا، جس سے خاندان کے ایک گھر تک پہنچنے کا راستہ بند ہو گیا۔
خاندان کے ایک اور فرد محمود فرج نے بتایا کہ ان کے چچازاد بھائی کو اپنے ہی گھر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حسن فرج کے مطابق، آباد کاروں کا مقصد مقامی رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے اور اس مقصد میں انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے، کیونکہ کئی گھر خالی ہو چکے ہیں۔
حسن فرج نے آباد کاروں پر مقامی لوگوں کی بجلی اور پانی استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق، یہ سب کچھ علاقے میں زندگی مشکل بنانے اور لوگوں کو اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جب بھی خاندان کے افراد اپنے گھر کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں تو چوکی پر موجود نوجوان انہیں روکنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
خاندان کو خدشہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی نہیں ہوگی، کیونکہ ایسے مقدمات میں بہت کم لوگوں کو سزا ملتی ہے۔
اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر بھی سوالات
رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر آباد کاروں کے تشدد کا معاملہ حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت اس تشدد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بھیڑ بکریوں کے فارمز کو وسعت دینے، ان کے منتظمین کو اسلحہ فراہم کرنے اور انہیں امریکی ساختہ گاڑیاں دینے کے لیے کروڑوں ڈالر مختص کیے ہیں۔ ان اقدامات پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح فلسطینیوں کی زمینوں پر آباد کاروں کی موجودگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کا معاملہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹس کی جانب سے ان خلاف ورزیوں کے تناظر میں اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر پابندیوں کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
نیوز رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ بھیڑ بکریوں کے فارمز اور ریوڑ فلسطینیوں کی زمینوں تک رسائی محدود کرنے اور آباد کاروں کی موجودگی بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ آباد کاروں کے تشدد، گھروں تک رسائی میں رکاوٹوں اور متعدد بستیوں کے خالی ہونے سے فلسطینی خاندانوں کے لیے اپنی زمینوں پر رہنا اور اپنے آبائی علاقوں میں زندگی جاری رکھنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔