
سعودی عرب نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد اپنے فضائی دفاعی نظام کی ناکامی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں دفاعی نظام ناکام کیوں رہا اور حملے سے پہلے خطرے کی اطلاع کیوں نہیں مل سکی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دو علاقائی سعودی حکام نے پیر کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے پہلے متعدد ڈرونز داغے، جس کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ریاض کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ عوامی سطح پر اس معاملے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
حکام کے مطابق حوثی باغیوں کے پاس ایسے بیلسٹک میزائل اور جدید نظام موجود ہیں جن کے وار ہیڈز دورانِ پرواز اپنا رخ تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس صلاحیت کی وجہ سے سعودی عرب کے پیٹریاٹ میزائلوں سمیت دیگر فضائی دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرکے ریاض پہنچنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے بارے میں سعودی دفاعی نظام پہلے سے خبردار کرنے میں ناکام کیوں رہا۔
گزشتہ ہفتے سعودی ایئرپورٹس پر حوثی حملوں کے سلسلے نے ملک کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ یہ صورت حال مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے، جو سات ماہ سے زیادہ عرصہ قبل امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے پھیلتا جا رہا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے پیر کو بھی دعویٰ کیا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ پیر کی رات شہر میں کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد حکام نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
حوثی باغیوں نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پیر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوبارہ نشانہ بنایا۔ باغیوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس غیر محفوظ ہیں، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ایئرپورٹس کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔
اس سے قبل سعودی سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج ڈرونز اور کروز میزائلوں پر مشتمل ایک نئے حملے کا جواب دے رہی ہے، تاہم حملے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پیر کو ریاض میں عالمی پیٹرولیم توانائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے واقعات سنگین ہیں۔ ہمارا ردعمل بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔
سعودی حکومت کا وہ مرکز، جو غیر ملکی میڈیا سے رابطوں کی نگرانی کرتا ہے، فضائی دفاعی نظام کی ناکامی سے متعلق تحقیقات پر تبصرے کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام چاہتے ہیں کہ امریکا حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں زیادہ براہ راست کردار ادا کرے۔ امریکا اب تک سعودی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معلومات، اہداف کی نشاندہی اور منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے، تاہم اس بار حوثیوں کے خلاف خود فضائی حملے کرنے سے گریز کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کرتا ہے تو باغی بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع باب المندب آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سے خلیج فارس سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کرنے کی کوششوں کے باعث پہلے ہی مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہو چکی ہے۔ امریکا اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔
حوثی باغیوں نے گزشتہ ماہ باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی گروپوں کی مدد سے ان علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ریاض ایئرپورٹ پر مہلک حملے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی حملوں کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات کی ہے، تاہم گفتگو کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے حوثیوں کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا ان حملوں کے جواب میں کیا کارروائی کرے گا۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کا دفاع کرے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو جلد پتا چل جائے گا۔
امریکی صدر کے لیے یہ صورت حال ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں۔ ان انتخابات میں فیصلہ ہوگا کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی اور پیٹرول کی بلند قیمتوں نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے سے امریکی ووٹرز کی مخالفت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کے حل میں مدد دینے کی پیشکش کی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا ہم جزیرہ نمائے عرب کی صورت حال پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی نیک نیتی پر مبنی خدمات پیش کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اتوار کو ٹیلی فون پر صورت حال پر بات کی، تاہم انہوں نے گفتگو کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے اردنی شہری محمود البرقاوی کی پیر کو اردن کے دارالحکومت عمان میں تدفین کر دی گئی۔ ان کی عمر 33 سال تھی اور وہ ریاض کے ایک کیفے میں کام کرتے تھے۔ وہ دو بچوں کے والد تھے۔