
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں پر مشتمل آزاد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پیر کو میر رضا قتل کیس کے وکیل جبران ناصر نے اہل خانہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ کو جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے، قتل کیس کی تحقیقات کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
جبران ناصر کے مطابق میر رضا کے اہل جانہ کی جانب سے سپر میڈیکل بورڈ کے قیام کی مخالفت کی گئی، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اہل خانہ کو فراہم نہ کرنا حکومتی یقین دہانی کے منافی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے روبرو پولیس کی غفلت سامنے آنے کے باوجود کسی افسر کے خلاف محکمانہ تحقیقات نہیں کی گئی۔ اہل خانہ کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی میر رضا کے اغوا اور قتل کے ساتھ شواہد چھپانے، ان میں رد و بدل اور پولیس اہلکاروں کے کرداروں کی بھی تحقیقات کرے۔
جبران ناصر نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے جے آئی ٹی کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے اہل خانہ کے تحفظات کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسے میں کمیشن کی حتمی رپورٹ خاندان کو فراہم کرنا ضروری ہے۔
میر رضا کیس کے وکیل نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اسامہ کے بیانات میں تضاد کے باوجود پولیس نے خصوصی بورڈ کی رپورٹ پر سوالات اٹھائے، سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کے تحت قبر کشائی کے بعد تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت مئی 2006 میں نوٹیفکیشن کے ذریعے سپر میڈیکل بورڈز ختم کرچکی ہے۔
میر رضا کیس میں اب تک کیا ہوا؟
یاد رہے کہ کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے ملی، جس پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے میں خودکشی کے امکان کو بھی زیرِ غور رکھا تاہم اہل خانہ نے اغوا، تشدد اور قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات پر تحفظات ظاہر کیے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کیا۔ 6 اگست کو عدالت نے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا۔ میڈیکل بورڈ نے دوسری مرتبہ معائنے کے بعد اپنی رپورٹ میں خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ گولی سینے میں پشت کی جانب سے داخل ہوئی اور سامنے سے باہر نکلی۔
بعد ازاں قتل کی دفعات شامل کی گئیں اور تفتیشی ٹیم میں تبدیلی بھی کی گئی۔ میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس کے ارکان میں تبدیلی کے معاملے پر بھی تنازع سامنے آیا، جس کے بعد اصل بورڈ کو بحال کیا گیا اور 8 اگست کو قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اور اہم سوالات
سندھ حکومت نے 24 اگست کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا، جسے میر رضا کی موت کے حالات، پولیس اور طبی حکام کی ممکنہ غفلت اور تحقیقات میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کمیشن نے کارروائی کے دوران ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضادات، جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے، سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق سوالات اٹھائے۔ میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ سے بھی ان کی رپورٹ میں موجود اختلافات پر پوچھ گچھ کی گئی جب کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی۔
کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور 8 اکتوبر کو اپنی کارروائی مکمل کرلی۔ رپورٹ کے حوالے سے اہل خانہ کے وکیل نے اسے عام کرنے اور خاندان کو فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی اور اسے عام کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ کریں گے۔
اب جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر کمیشن کی حتمی رپورٹ اہل خانہ کو فراہم کرنے اور وفاقی و صوبائی اداروں پر مشتمل آزاد جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کا مقصد صرف موت کے حالات کا تعین نہیں بلکہ مبینہ قتل میں ملوث افراد، شواہد میں ممکنہ ردوبدل اور تفتیشی کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کرنا ہونا چاہیے۔