اسرائیل میں لبنان سرحد کے قریب دھماکا، طالب علم ہلاک، 19 زخمی

اسرائیل کے شمالی علاقے میں لبنان کی سرحد کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ایک طالب علم ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے ہیں، جن میں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے جب کہ حکام کے مطابق دھماکے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جب کہ ابتدائی شبہ ہے کہ واقعہ نہ پھٹنے والے گولہ بارود کے باعث پیش آیا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ہلاک ہونے والے لڑکے کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام دھماکے کی وجہ کا تعین کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا 15 سالہ لڑکا تھا، جو اپنے اسکول کے سالانہ دورے پر گیا ہوا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ دھماکا نہ پھٹنے والے گولہ بارود کے باعث ہوا۔ واقعہ نیوٹ مورداخائی نامی آبادی کے قریب پیش آیا، جو کِبُتز منارا اور کِبُتز یفتاح کے درمیان واقع ہے۔

اسرائیلی امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق طبی عملہ جائے وقوعہ پر زخمیوں کو امداد فراہم کررہا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ متعدد افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شمالی شہر معالوت ترشیحا کی بلدیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک مذہبی ہائی اسکول کے طلبہ اور عملے کے افراد شامل ہیں، جو تفریحی دورے پر گئے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق کریات شمونہ اسٹیشن کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ بم ناکارہ بنانے والے ماہرین دھماکے کی وجوہات اور اس کے ماخذ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل میں دھماکے کے مقام پر فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے۔ ملک کے شمالی علاقوں اور جنوبی لبنان کے بعض حصوں میں فوج کی بھاری نفری تعینات ہے، جہاں اسرائیل کے بقول ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

الجزیرہ کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے رپورٹنگ کرنے والی نور عودہ کے مطابق دھماکے کی وجوہات کے بارے میں ابھی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم یہ واقعہ شمالی اسرائیل، بالائی گلیل اور لبنان کی سرحد سے متصل علاقوں میں جاری فوجی سرگرمیوں اور وہاں موجود گولہ بارود کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ 3 برس کے دوران اس علاقے میں ہزاروں گولہ بارود استعمال کیے گئے، جس کے باعث نہ پھٹنے والے ہتھیار بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دھماکے کے بعد اسرائیلی سیاسی قیادت بھی متحرک ہوگئی ہے اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئے جب کہ وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اپنی طے شدہ سیاسی مصروفیت منسوخ کردی۔

لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد شمالی اسرائیل میں رہنے والے ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے تھے، یہ صورت حال غزہ میں 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد پیدا ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھنے پر اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر قبضہ شروع کیا۔ اس دوران اسرائیل لبنان میں کارروائیاں کرتا رہا جب کہ حزب اللہ کی جانب سے بھی سرحد پار وقفے وقفے سے راکٹ داغے جاتے رہے۔

نور عودہ کے مطابق شمالی اسرائیل سے نقل مکانی کرنے والے بہت سے شہری اب تک واپس نہیں آئے کیوں کہ انہیں اپنی حکومت کی جانب سے تحفظ کی ضمانت پر اعتماد نہیں۔ راکٹ حملوں سے ان کی آبادیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور خطے میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles