حوثیوں کے حملے کا خطرہ، سعودی ولی عہد کی نقل و حرکت بنکروں والے محلات تک محدود

سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے میں کمی نے دفاعی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت نقل و حرکت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں سعودی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ولی عہد کے ہمراہ خصوصی طور پر منتخب سیکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں، جبکہ ان کی نقل و حرکت بنکروں سے محفوظ بنائے گئے محلات کے درمیان محدود اور محتاط انداز میں جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے، جس کے باعث سعودی عرب کے وسیع رقبے اور اہم تنصیبات کا فضائی دفاع کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی حکام اہم توانائی تنصیبات اور محلات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے میزائل دفاعی بیٹریاں مختلف مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، تاکہ خطرے سے دوچار اہم مقامات کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ بڑھتی کشیدگی سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اس کے معاشی منصوبوں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی خطرات اور دفاعی اخراجات میں اضافے سے ان منصوبوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں حوثیوں کے خطرے کا اندازہ لگانے میں ممکنہ غلطیوں اور دفاعی اقدامات پر بھاری اخراجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورت حال میں سعودی عرب کو ایک طرف اہم تنصیبات اور قیادت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے معاشی منصوبوں کو بھی آگے بڑھانا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles