
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے ایک بڑے ایل پی جی بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ برطانوی بحری ادارے نے متحدہ عرب امارات کے قریب ایک جہاز کو نامعلوم شے سے ٹکرانے اور اس میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان تعلق کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بڑے ایل پی جی بردار جہاز ’این وی سن شائن‘ کو نشانہ بنایا، جس کے انجن روم اور جہاز کو چلانے والے نظام میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع اس راستے سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا جسے ایران غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ بیان کے مطابق حملے کے بعد جہاز کے انجن روم اور پروپلشن سسٹم میں بڑے پیمانے پر آگ لگی۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس کی بحریہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کی ذمہ دار ہے اور وہ اس خطے میں مخالف فوجوں کی موجودگی کی اجازت نہیں دے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس انتظام میں خلل ڈالنے کی دشمن کی کوششوں سے فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی بحری تجارتی آپریشنز ادارے (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں جزیرہ کے مغرب میں 13 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک بحری جہاز نامعلوم شے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ ادارے کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یو کے ایم ٹی او کی جانب سے رپورٹ کیا گیا واقعہ وہی ہے جس میں ایران نے ’این وی سن شائن‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے یا دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔
اس سے قبل ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی صرف اسی آبی گزرگاہ تک محدود نہیں رہے گی، بل کہ پورے خطے میں ایسے جہازوں کا تعاقب کیا جائے گا۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ ان جہازوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔