
امریکا نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر اقتصادی اور قانونی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ غیر معمولی اعلان عالمی عدالت میں سابق جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی جنوبی افریقی قانون دان ناوی پِلے کو نوبیل امن انعام دیے جانے کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی عدالت نے اِن پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دباؤ اس کے کام اور تحقیقات کو نہیں روک سکتا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے باضابطہ اعلان سے قبل جاری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ’صدر ٹرمپ عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر مقدمہ چلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔‘
انہوں نے عدالت کو ’روگ کورٹ‘ (سرکش عدالت) قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا آئی سی سی کے ساتھ تمام تر مالیاتی لین دین پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہم اس عدالت کو وسائل کی فراہمی روکیں گے اور اس کی کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی پابندیوں کے نتیجے میں عالمی فوجداری عدالت کو امریکی کمپنیوں کی خدمات، عدالت کے بینک اکاؤنٹس، انشورنس کوریج اور سافٹ ویئر سروسز متاثر ہو سکتی ہیں اور عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی ممکنہ طور پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے اور اس اقدام سے قبل بھی عالمی عدالت کے بعض پراسیکیوٹرز اور ججوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نذہت شمیم خان نے امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان پابندیوں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت ان تمام حربوں کے باوجود اپنی تحقیقات اور کارروائیاں جاری رکھے گی۔
عالمی فوجداری عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا۔ جس کا مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنا ہے۔
اس عدالت کے رکن ممالک کی تعداد 125 ہے، جن میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکہ اور ترکیہ کے سوا نیٹو کے تمام رکن ممالک شامل ہیں۔ عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز میں واقع ہے، جو یورپی یونین اور نیٹو دونوں کا رکن ملک ہے۔
واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے پر تنقید کرتا آیا ہے۔
امریکا کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حوالے سے عدالت کی ماضی کی تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے، تاہم یہ تحقیقات اب بند کی جا چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں بھی عالمی فوجداری عدالت کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں لگائی تھیں۔ بعد ازاں صدر جو بائیڈن کے دور میں یہ پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں۔ جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد واشنگٹن نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
جمعے کے روز ان پابندیوں کے اعلان سے قبل نوبیل انعام کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی قانون دان ناوی پلے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام سے نوازا تھا۔ وہ 2003 سے 2008 تک عالمی فوجداری عدالت کے اپیلز چیمبر میں جج رہ چکی ہیں۔
ناوی پِلے اقوامِ متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں اور نسل پرستی کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے قائم انکوائری کمیشن قائم کی سربراہی کرچکی ہیں۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ناوی پلے کو نوبل امن انعام دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل مخالفت قرار دیا ہے۔