
بھارت کی بڑی ٹیلی کام مارکیٹ میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز پر جاری بحث اب معروف کاروباری شخصیات کے درمیان ایک نئی کشیدگی کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے بھارت میں اپنی کمپنی اسٹارلنک کی سروس شروع کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کا نام لے لیا ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا مکیش امبانی بھارت کے اصل باس ہیں؟ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وہ اس سے قبل الزام لگا چکے تھے کہ بھارت میں بعض بااثر کاروباری شخصیات اسٹارلنک کی آمد میں رکاوٹ بن رہی ہیں تاکہ مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھ سکیں۔
مسک نے 8 اکتوبر 2026 کو ایکس پر لکھا کہ اسٹارلنک کو 165 سے زائد ممالک میں لائسنس حاصل ہے اور کمپنی گزشتہ پانچ برس سے بھارتی حکومت کے ہر قانون اور تقاضے پر عمل کر رہی ہے۔ اس کے باوجود سروس شروع کرنے کی حتمی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے سوال کیا کہ آخر لائسنس کیوں نہیں دیا جا رہا اور کیا امبانی بھارت کے اصل باس ہیں؟
ان کا یہ بیان بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کاروباری مقابلے اور ریگولیٹری منظوری کے عمل پر جاری اختلافات کو نمایاں کرتا ہے۔
راہل گاندھی بھی بحث میں شامل ہوگئے
اس تنازع میں کانگریس رہنما اور بھارتی اپوزیشن کے اہم سیاست دان راہل گاندھی نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے ایلون مسک کی پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ بھارت میں خوش آمدید، ایلون، ابھی آپ کو دوسرے شخص کا پتا چلنا باقی ہے۔
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا، تاہم بھارتی میڈیا نے ان کے اشارے کو بعض دوسرے بااثر کاروباری حلقوں سے جوڑا ہے۔ مسک نے راہل گاندھی کے جواب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ یہ صورت حال واقعی تشویش ناک ہے۔
اسٹارلنک کی راہ میں کون سی رکاوٹیں ہیں؟
اسٹارلنک، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جس کے ذریعے روایتی زمینی نیٹ ورک اور فائبر آپٹک کیبلز کی محدود رسائی والے علاقوں میں بھی انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بھارت میں اس سروس کا آغاز خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ایک بڑا کاروباری موقع ہے۔
مسک نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ بھارت کے بعض بااثر سرمایہ دار اسٹارلنک کو مارکیٹ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں تاکہ ان کی اجارہ داری برقرار رہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو بھارتی عوام کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا نقصان ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہیں انٹرنیٹ کی بہتر سہولتیں میسر نہیں۔
تاہم، مسک نے اپنے الزامات کے حق میں عوامی طور پر کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ان کی تازہ پوسٹ میں مکیش امبانی کا نام سامنے آنے سے یہ تنازع مزید نمایاں ہوگیا ہے۔
مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز بھارت کے بڑے کاروباری گروپس میں شامل ہے اور اس کی ٹیلی کام کمپنی جیو ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات فراہم کرتی ہے۔ ریلائنس کا سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں بھی منصوبہ ہے، جس کے باعث اسٹارلنک کی ممکنہ آمد سے اس مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
ایلون مسک کے الزامات کے جواب میں بھارتی وزارتِ مواصلات نے کہا کہ ملک میں ٹیلی کام اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن خدمات کے لیے منصفانہ اور غیر امتیازی ضابطہ جاتی نظام موجود ہے۔
وزارت کے مطابق، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے والی ہر کمپنی کو سیکیورٹی سے متعلق شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ ان تقاضوں کا مقصد صارفین اور ان کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ تینوں لائسنس یافتہ اداروں کی سیکیورٹی جانچ جاری ہے اور فی الحال یہ تمام کمپنیاں منظوری کے تقریباً ایک ہی مرحلے پر ہیں۔ سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کمپنی اسپیکٹرم حاصل کرنے کے لیے اگلے مرحلے میں جا سکتی ہے۔
اسپیکٹرم سے مراد وہ مخصوص ریڈیو فریکوئنسیز ہیں جن کے ذریعے مواصلاتی نظام سگنل منتقل کرتا ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو ان فریکوئنسیز کے استعمال کی اجازت بھی درکار ہوتی ہے۔
اس طرح بھارتی حکومت کے مؤقف کے مطابق اسٹارلنک کی تجارتی سروس شروع نہ ہونے کی وجہ صرف اس کمپنی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں، بلکہ منظوری کے عمل کے مختلف مراحل ہیں جن کا سامنا دوسری کمپنیوں کو بھی ہے۔
بھارت کی انٹرنیٹ مارکیٹ میں اہم مقابلہ
اسٹارلنک کی بھارتی مارکیٹ میں آمد صرف ایک نئی انٹرنیٹ سروس کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے ملک کے ٹیلی کام شعبے میں مسابقت کی نوعیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ان علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں روایتی موبائل نیٹ ورک یا براڈبینڈ کی سہولت محدود ہے۔
تاہم، اس سروس کو تجارتی طور پر شروع کرنے کے لیے حکومتی منظوری، سیکیورٹی تقاضوں اور اسپیکٹرم سے متعلق شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ اس لیے مسک کے الزامات اور بھارتی حکومت کے جواب کے درمیان بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ تاخیر کی وجہ کاروباری مفادات کا دباؤ ہے یا قانونی اور سیکیورٹی منظوری کا عمل۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مکیش امبانی یا کسی دوسرے کاروباری شخص نے اسٹارلنک کی منظوری رکوانے کے لیے مداخلت کی ہے۔ دوسری جانب، مسک کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے، کاروباری اثر و رسوخ اور حکومتی منظوری کے طریقۂ کار پر بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔