حکومت کا مولانا فضل الرحمان کی ثالِثی کوششوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ


وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں حکومت نے کسی حتمی فیصلے سے قبل مولانا فضل الرحمان کی ثالِثی اور مفاہمتی کوششوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی امن و امان اور سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اجلاس کو بریفنگ دی جب کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال اور صوبے سے متعلق تمام آئینی و قانونی امور بھی زیرِ غور آئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی اور مفاہمتی کوششوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان ثالثی کے لیے تیار
دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کرانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کو ثالث بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے لیے فریقین کے سامنے 5 شرائط رکھی ہیں اور واضح کیا ہے کہ وہ پہلے حکومت اور اپوزیشن کے مطالبات اور دونوں فریقوں کی سنجیدگی کا جائزہ لیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق اگر دونوں فریق بنیادی امور پر لچک دکھانے اور ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوئے تو وہ درمیانی راستہ نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ثالثی کے حتمی فیصلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی ملاقات اور ٹیلی فونک رابطے کا امکان ہے۔

اس سے قبل حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی جب کہ حکومتی ٹیم میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شامل تھے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے انہیں ملک کی سیاسی صورت حال، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا تھا۔ ملاقات کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے کہا تھا کہ حکومت کے اپوزیشن سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی ملاقات
بعد ازاں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورت حال اور خیبرپختونخوا میں جاری صورت حال پر مشاورت کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی کے بجائے معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ اپوزیشن اور جے یو آئی (ف) نے سیاسی صورت حال پر وسیع تر مشاورت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کا مؤقف
ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت سے مذاکرات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو پیغام دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا جائے تو مثبت جواب دیا جائے تاہم ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات مذاکرات کی پہلی شرط ہونی چاہیے۔
دونوں اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں ڈیڈلاک کیسے پیدا ہوا؟
یاد رہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ عمل 2 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں فریقین نے ایک دوسرے کے مطالبات اور مؤقف سامنے رکھے تاہم دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہوسکا۔
مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ سمیت مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آئے جب کہ دوسرے دور کے مذاکرات بھی ڈیڈلاک کے ساتھ ختم ہوگئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بعد ازاں ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی کہا کہ حکومت کے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں تاہم مذاکرات کو سیاسی مطالبات منوانے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کب اور کہاں سے شروع ہوا؟
مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد پی ٹی آئی نے اعلان کے مطابق 4 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والے قافلے میں جنوبی اضلاع کے کارکن اور قافلے شریک ہوئے۔
ابتدائی شیڈول کے مطابق 4 اکتوبر کو قافلے نے لکی مروت سے سفر شروع کرکے کرک کے قریب رات قیام کرنا تھا جب کہ 5 اکتوبر کو کرک سے کوہاٹ کی جانب پیش قدمی اور 6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلوں کی شمولیت کے بعد پشاور کی جانب بڑھنا تھا۔
6 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ پشاور کے مضافاتی علاقے متنی پہنچا اور وہاں رات قیام کیا، 8 اکتوبر کو لانگ مارچ پشاور میں داخل ہوگیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق قافلہ خیبر ضلع سے پشاور پہنچا، جہاں سے اسے شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا چارسدہ روڈ کی جانب جانا ہے، اس کے بعد مارچ چارسدہ کی طرف روانہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کے آئندہ مرحلے کی حکمت عملی صوابی پہنچنے کے بعد بتائی جائے گی۔
موجودہ صورت حال میں ایک طرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری ہے جب کہ دوسری جانب حکومت مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی کوششوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔
حکومت کی جانب سے فی الحال کسی حتمی آئینی یا قانونی اقدام سے قبل سیاسی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کو موقع دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان دونوں فریقوں کے مؤقف اور سنجیدگی کا جائزہ لینے کے بعد اپنے کردار کا حتمی فیصلہ کریں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles