امریکا میں مقیم غیرملکی طلبہ کے لیے ورک پرمٹ کی فیس 70 ہزار ڈالر مقرر کرنے کا منصوبہ

امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے پڑھائی کے بعد کام کرنے کا راستہ مزید مشکل بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے طلبہ سے ورک ٹریننگ کی مد میں بھاری فیس لینے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر قانونی اعتراضات بھی متوقع ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری مجوزہ قواعد کے مطابق ایف-1 ویزا رکھنے والے بین الاقوامی طلبہ کو ملک میں ملازمت سے متعلق تربیت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 70 ہزار ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ تربیت ’آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ‘ (او پی ٹی) کے تحت دی جاتی ہے، جو طلبہ کو اپنی تعلیم سے متعلق عملی کام کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت طلبہ کو آن دی جاب ٹریننگ کے لیے کسی منظور شدہ ادارے کو 70 ہزار ڈالر ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اضافی ورک ٹریننگ کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ نظام میں طلبہ سے تقریباً 500 ڈالر فیس وصول کی جاتی ہے۔

او پی ٹی پروگرام کے تحت غیر ملکی طلبہ تعلیمی سیشن کے دوران ہفتے میں 20 گھنٹے تک کام سے متعلق تربیت حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ گریجویشن کے بعد بھی محدود مدت تک اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی ’STEM‘ سے متعلق ڈگری رکھنے والے طلبہ کے لیے اس مدت میں اضافی سہولت بھی موجود ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ نئی فیس کا مقصد فراڈ کی روک تھام، امیگریشن نظام کی شفافیت اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ کے مطابق فیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقرر کی جارہی ہے کہ آجر، طلبہ اور تعلیمی ادارے ایف-1 ویزا رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے مقررہ قواعد کے مطابق سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

او پی ٹی پروگرام کو اکثر غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکی ملازمت کی جانب ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تربیتی مرحلے کے بعد کئی طلبہ ایچ-1 بی ویزا کے ذریعے امریکا میں مستقل ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی ایچ-1 بی پروگرام پر بھی اضافی فیس سمیت مختلف پابندیوں اور تبدیلیوں کی جانب بڑھ چکی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ایچ-1 بی پروگرام نے دنیا بھر، خصوصاً بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والے انجینئرز اور سائنس دانوں کو امریکی جامعات میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ مہارت والی ملازمتیں حاصل کرنے کا موقع دیا ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی ہنرمند کارکنوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس پروگرام پر کافی انحصار کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکا میں قیام آسان بنانے کی بات کی تھی۔ انہوں نے تجویز دی تھی کہ امریکی جامعات سے گریجویشن کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو خودکار طور پر گرین کارڈ دیا جانا چاہیے۔

تاہم اب پیش کی گئی نئی تجویز کو عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ غیر ملکی ’STEM‘ ماہرین کو امریکا کی جانب راغب کرنے والی تنظیم ٹیلنٹ موبیلٹی فنڈ کے ڈائریکٹر ڈگ رینڈ نے لنکڈ اِن پر کہا کہ یہ مجوزہ ضابطہ عدالتوں میں مشکلات کا سامنا کرسکتا ہے۔

یہ تجویز ابھی حتمی قانون نہیں بنی، تاہم اگر اسے نافذ کردیا جاتا ہے تو امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی تربیت اور ملازمت کے مواقع حاصل کرنا مالی طور پر کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles