
لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جسے اسرائیل کے ساتھ رواں سال کی جنگ سے بے گھر ہونے والے لبنانی خاندانوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم امریکا نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے براہ راست واقف دو افراد نے بتایا کہ حزب اللہ کو گزشتہ ماہ ایران سے تقریباً 20 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔ یہ رقم ایسے وقت میں ملی ہے جب ایران پر امریکی معاشی پابندیاں مزید سخت ہو چکی ہیں اور ایرانی رقم لبنان تک پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حزب اللہ ابتدائی طور پر تقریباً 50 ہزار متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان 3 ہزار ڈالر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ترجیح ان خاندانوں کو دی جائے گی جن کے گاؤں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں یا اسرائیلی قبضے کے باعث جہاں واپس جانا ممکن نہیں۔
حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے رقم کے ایرانی ہونے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بتایا کہ ایک رقم حاصل ہوئی ہے اور اسے تقسیم کرنے کا منصوبہ آنے والے دنوں میں سامنے لایا جائے گا۔
اُدھر امریکا نے حزب اللہ کو ایرانی رقم ملنے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگٹ نے کہا کہ یہ رقم موجود نہیں ہے اور الزام لگایا کہ حزب اللہ ایران سے رقم آنے کی ”جعلی کہانیوں“ کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے ترجمان نے بھی کہا کہ ایران ”رقم اور اسے منتقل کرنے کے راستوں، دونوں سے محروم ہو رہا ہے“ اور تہران کے پاس دہشت گردی کی مہم کے لیے رقم فراہم کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ رقم لبنان منتقل کرنے والے درمیانی افراد نے 20 فیصد فیس وصول کی، جو معمول کی فیس سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کے لیے مالی رقوم منتقل کرنا پہلے کے مقابلے میں بہت مشکل ہوگیا ہے۔
حزب اللہ کو ایران کی جانب سے طویل عرصے سے مالی مدد ملتی رہی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق صرف 2025 کے پہلے 10 ماہ میں ایران نے حزب اللہ کو ایک ارب ڈالر منتقل کیے تھے۔ تاہم ایران نے سرکاری طور پر حزب اللہ کو مالی امداد دینے کا اعتراف نہیں کیا۔
اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے حامی افراد علاقوں کے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے 2 مارچ کو علاقائی جنگ میں ایران کی حمایت میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
ماضی میں حزب اللہ جنگ کے بعد اپنے حامیوں کی مالی اور رہائشی مدد کرتی رہی ہے۔ 2006 کی جنگ کے بعد تنظیم نے متاثرہ خاندانوں کو فوری نقد رقم دی اور بیروت کے جنوبی علاقوں کی تعمیر نو میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم موجودہ جنگ کے بعد اب تک بڑے پیمانے پر ایسی امدادی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے گزشتہ ماہ ایک خطاب میں کہا تھا کہ تنظیم جنگ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے رہائش کے منصوبے میں جلد حصہ لے گی۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ”دستیاب وسائل اور عطیات“ استعمال کیے جائیں گے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے مطابق 2024 کے بعد اسرائیل کے ساتھ ہونے والی دو جنگوں سے ہونے والی تباہی کی تعمیر نو کی مجموعی لاگت 27 ارب ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے جنگجو شامل ہیں، جبکہ حزب اللہ نے بھی اپنے جنگی نقصانات کی مکمل تعداد جاری نہیں کی۔