
قطر نے ایران کے اُن تین پائلٹس کو حراست میں رکھنے کے الزام کی تردید کردی ہے جو رواں سال مارچ میں قطری فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایرانی پائلٹس نے رواں سال قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور واقعے کے بعد قطری حکام نے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب نہیں ملا۔
قطری حکام کے مطابق بعد ازاں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے ایک پائلٹ کی باقیات برآمد کی تھیں۔
قطر کا کہنا ہے کہ اس نے پائلٹ کی باقیات ایران کے حوالے کرنے کے لیے تہران سے رابطہ بھی کیا، تاہم اس معاملے پر ایران کی جانب سے مطلوبہ تعاون سامنے نہیں آیا۔
قطری وزارت خارجہ نے ایرانی دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کے دعوے کی واضح طور پر تردید کرتا ہے۔
قطری ترجمان کے مطابق ایسے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ قطر نے تین ایرانی پائلٹس کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ پائلٹس مارچ میں ایک کارروائی کے دوران اپنے طیارے گرائے جانے کے بعد قطری فورسز کی تحویل میں چلے گئے تھے۔ ایران نے قطر سے ان پائلٹس کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادے نے ریڈ کراس کو خط لکھا جس میں انہوں نے تین ایرانی پائلٹس کے قطری فورسز کی تحویل میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے صورت حال کا جائزہ لینے اور ان تک رسائی کا مطالبہ کیا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے عوامی سطح پر دعویٰ کیا کہ 2 مارچ کو قطر میں امریکی فوجی اڈے پر کارروائی کے بعد لاپتہ ہونے والے تین پائلٹس کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کیا تھا۔
خط کے مطابق چار پائلٹس میں سے ایک، بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی جاں بحق ہوگئے تھے، جن کا جسدِ خاکی ایران کے حوالے کر دیا گیا تھا تاہم دیگر تین پائلٹس، جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بیرویشیان کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ مارچ میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق ہے جس میں قطر نے دو ایرانی ایس یو-24 طیارے مار گرائے تھے۔ ایران اور قطر کے بیانات میں پائلٹس کی قسمت سے متعلق واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ تہران تین پائلٹس کے زندہ اور قطری تحویل میں ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے جبکہ دوحہ کا مؤقف ہے کہ اسے صرف ایک پائلٹ کی باقیات ملی ہیں۔
دونوں ممالک کے متضاد دعووں کے باعث پائلٹس کے بارے میں حتمی صورت حال تاحال واضح نہیں ہوسکی، جبکہ قطر نے ایران کو واقعے سے متعلق مزید معلومات اور باقیات کی حوالگی کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔