
امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیاں اور دیگر اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی بحریہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے ناکہ بندی کو ’’غیر معینہ مدت‘‘ تک جاری رکھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق بحری جہازوں کو باری باری تبدیل کیا جائے گا تاکہ کارروائیاں جاری رہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ہم ایسے اقدامات کرنے جا رہے ہیں جو کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔ خاص طور پر ایران کی تیل کی آمدنی متاثر ہوئی ہے اور رپورٹ کے مطابق تہران کو اب تک اربوں ڈالر کے تیل کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تاہم امریکی بحریہ کے لیے طویل عرصے تک اس کارروائی کو جاری رکھنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کئی ماہ سے مسلسل سمندر میں موجود ہے۔
امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے جہاز پر اہلکاروں کی ذہنی صحت، بنیادی سہولیات اور دیگر مسائل سے متعلق رپورٹس پر تشویش ظاہر کی ہے۔
سینیٹر چک شومر نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔ تاہم ہیگستھ نے جہاز پر حالات خراب ہونے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا قرار دیا۔
امریکی بحریہ کے سابق افسر ہارلان المین کے مطابق طویل عرصے تک سمندر میں رہنے سے جدید جنگی جہازوں کی تیاری اور صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہازوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے انتہائی پیچیدہ جہازوں کو۔ بہت سے کام صرف بندرگاہ پر ہی کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے لیے اہم دباؤ کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے، پابندیاں اٹھائے جانے اور ایرانی اثاثے بحال ہونے تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمایی نے کہاکہ ہم تمام نقل و حرکت پر مکمل اور فیصلہ کن نظر رکھتے ہیں۔ آبنائے میں ہونے والی کوئی حرکت ہمارے جنگجوؤں سے پوشیدہ نہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی پابندیاں ایران پر شدید معاشی دباؤ ڈال رہی ہیں، لیکن تہران کے پاس آبنائے ہرمز اور خطے میں امریکی مفادات پر دباؤ ڈالنے جیسے ذرائع بھی موجود ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکی ناکہ بندی کتنی دیر تک جاری رہ سکے گی یا اس سے ایران کب تک دباؤ میں رہے گا۔
مشرق وسطیٰ کے ماہر علی واعظ کے مطابق ایران امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بنا کر یا خطے میں توانائی کی ترسیل کو مزید متاثر کرکے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران کو یقین ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ہر محاذ آرائی میں امریکا پہلے پیچھے ہٹا ہے اور اسے اس بار بھی مختلف ہونے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی۔