نیتن یاہو سے اختلافات میں اضافہ، ٹرمپ کا انتخابی حمایت سے گریز کیوں؟

اسرائیلی انتخابات میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک اہم سیاسی چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قریبی تعلقات کے باوجود اب تک ان کی کھل کر انتخابی حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ سے چار مرتبہ نیتن یاہو کی انتخابی حمایت سے متعلق سوال کیا گیا، تاہم امریکی صدر نے ہر بار حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم کے اتحاد کو رائے عامہ کے جائزوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور غزہ، ایران اور لبنان کے معاملات پر نیتن یاہو اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل اوول آفس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران اسرائیلی انتخابات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ویب سائٹ ’’ایگزیوس‘‘ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی پوزیشن کے بارے میں سوال کیا۔

گفتگو سے واقف ایک امریکی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو چند لمحوں کے لیے خاموش رہے، جس پر ان کے ایک مشیر نے امریکی صدر سے کہا کہ ’’جناب صدر، وہ جیت رہے ہیں۔‘‘

تاہم رائے عامہ کے جائزے اس کے برعکس تصویر پیش کررہے ہیں۔ نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد کو 49 سے 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، جبکہ اس وقت ان کے اتحاد کے پاس 68 نشستیں ہیں۔ اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

دوسری جانب ’’ایگزیوس‘‘ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو 67 سے 70 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اسرائیل کے سابق چیف آف اسٹاف گیڈی آئزنکوٹ بھی متعدد جائزوں میں مقبولیت کے اعتبار سے نیتن یاہو سے آگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی حکمت عملی اپنے مخالفین کو ایسی اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ان کے بغیر حکومت تشکیل دے سکیں۔ اگر دونوں میں سے کوئی بھی بلاک حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو نیتن یاہو نئے انتخابات تک نگراں وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں۔

انتخابات سے ہٹ کر اختلافات بھی نمایاں

ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں کو توقع تھی کہ امریکی صدر نیتن یاہو کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ اس سے قبل نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ختم کرنے کے لیے انہیں معافی دینے کا بھی علانیہ مطالبہ کرچکے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔

سینئر امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اب بھی نیتن یاہو کو ذاتی طور پر پسند کرتے ہیں، تاہم وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بعض فیصلوں اور پالیسیوں سے مایوس ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران، لبنان اور غزہ کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ سے حال ہی میں بات کرنے والے دو افراد کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو کو ’’اپنا بدترین دشمن‘‘ قرار دیا۔ حالیہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نیتن یاہو نے غزہ اور حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ’’پیس بورڈ‘‘ کے منصوبے کو کھلے عام مسترد کیا۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیے بغیر اسرائیل غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے تاہم کہا کہ وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو کے موقف کو انتخابی سیاست سے جوڑ کر دیکھا ہے اور اسے لازماً اسرائیلی پالیسی کا حتمی اعلان نہیں سمجھا۔ عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نیتن یاہو کی سیاسی ضروریات کو سمجھتا ہے، بشرطیکہ وہ امریکی انتظامیہ کی درخواستوں پر عمل کرتے رہیں، خصوصاً غزہ میں حملے روکنے سے متعلق امریکی مطالبے پر۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کشنر سے مذاکرات کے دوران تحفظات کے باوجود غزہ کے منصوبے کو موقع دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ توقع ہے کہ کشنر آئندہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کرکے نیتن یاہو اور دیگر حکام سے منصوبے پر بات چیت کریں گے۔

نیتن یاہو کے مخالفین بھی ٹرمپ سے رابطے میں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کا نیتن یاہو کی انتخابی حمایت سے گریز اب اسرائیلی انتخابی سیاست کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ نیتن یاہو کے اہم مخالفین، جن میں گیڈی آئزنکوٹ، سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید شامل ہیں، نے مشترکہ دوستوں، عطیہ دہندگان اور سیاسی اتحادیوں کے ذریعے ٹرمپ اور ان کے معاونین کو بالواسطہ پیغامات بھیجے ہیں۔

پیغامات میں امریکی صدر سے غیر جانب دار رہنے اور اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس اسرائیلی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ انتخابی نتائج ٹرمپ کی صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں مشرق وسطیٰ سے متعلق ان کے ایجنڈے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

اس ایجنڈے میں غزہ منصوبے کو آگے بڑھانا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات، اسرائیل اور شام کے درمیان سکیورٹی انتظامات اور خطے میں وسیع تر سیاسی انتظامات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مستقبل میں اپنا موقف تبدیل کرکے نیتن یاہو کی حمایت کرسکتے ہیں، تاہم اب تک ان کی جانب سے مسلسل حمایت سے گریز کو سیاسی طور پر اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسرائیلی انتخابات میں تقریباً 75 دن باقی ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کے اتحاد کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles