
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 2027 کے ورلڈ کپ تک کپتانی برقرار رہنے سے متعلق سوال پر مختصر مگر واضح جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ابھی تک تو میں ہی کپتان ہوں۔‘‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی قیادت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں اور سابق کپتان بابر اعظم کو تمام فارمیٹس میں دوبارہ قیادت سونپنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
شاہین آفریدی نے یہ بات نیشنل چیمپئنز کپ کی ٹیمز کے کپتانوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کی تصدیق کر دی ہے؟ اس پر شاہین نے کہا، ’’ابھی تک تو میں ہی کپتان ہوں۔‘‘
شاہین کا یہ جواب پاکستان کی قیادت کے مستقبل کے بارے میں جاری بحث کے درمیان اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کپتانی میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، جس کے باعث ٹیم کی قیادت کا معاملہ مسلسل توجہ کا مرکز رہا ہے۔ شاہین کو اکتوبر 2025 میں محمد رضوان کی جگہ ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بابر اعظم کو مستقبل میں دوبارہ زیادہ ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شاہین آفریدی نے قیادت سے متعلق سوال پر زیادہ گفتگو کرنے کے بجائے اپنی توجہ ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز رکھنے کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل چیمپئنز کپ پاکستان کے لیے ایسے کھلاڑیوں کو سامنے لانے کا اچھا موقع ہے جو مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کا امکان رہتا ہے، اس لیے پہلے سے متبادل کھلاڑیوں کی شناخت ضروری ہے۔ شاہین آفریدی نے کہا کہ اگر ورلڈ کپ سے قبل کسی کھلاڑی کو انجری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس ڈومیسٹک ٹورنامنٹ سے قومی ٹیم کو فوری متبادل تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔
آفریدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھلاڑیوں کو ان کی قدرتی اور مخصوص پوزیشن پر کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس طرح کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا بہتر مظاہرہ کر سکیں گے اور سلیکٹرز کو بھی قومی ٹیم کے لیے دستیاب آپشنز کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
اس کے ساتھ ہی شاہین آفریدی نے کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے کہا کہ نیشنل چیمپئنز کپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی فٹنس پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ ورلڈ کپ کی تیاری صرف انفرادی کارکردگی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ٹیم کے لیے دستیاب تمام کھلاڑیوں کی فارم اور فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔