
سندھ حکومت نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پُراسرار موت کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے میر رضا علی کے والدین کو کیس کیس کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب میر رضا علی کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے ان کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی سفارش پر سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کیس کو شفاف بنانا بہت ضروری ہے اور حکومت اس معاملے میں عوام کے ساتھ ہے۔ ضیاءالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ میر رضا کے اہلِ خانہ جس پولیس افسر کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنے کی تجویز دیں گے، حکومت اس افسر کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنے پر غور کرے گی۔