
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کے لیے امریکا سے جنگ کا ہرجانہ ادا کرنے سمیت 6 نئی شرائط پیش کردی ہیں۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے نئی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جنگ کا ہرجانہ ادا کرے اور آبنائے ہرمز کی بندش ختم کی جائے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عمان کے ساتھ ہونے والے کسی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان کے مطابق عمان کے ساتھ مفاہمت کے عمومی فریم ورک پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم اس کی اعلیٰ سطح پر حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
اُدھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ معاہدہ انتہائی قریب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا مسلسل مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کررہا ہے اور ہرمز میں نئے بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
دوسری جانب عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر جاری مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔
عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر مسلسل حملے ناقابل قبول ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر ٹول نہ لگانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایرانی یقین دہانی پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرے گا جب تک اس کے عملی اقدامات سامنے نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا تجارتی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی واضح ضمانت چاہتا ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں بحری آمدورفت میں بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ امریکا خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال دیکھنا چاہتا ہے۔