
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فیصلہ کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس اہم بحری گزرگاہ کی بحالی کے لیے لازمی ہے کہ امریکا ایران کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے۔
ہفتے کے روز ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے درکار شرائط پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
جنرل حسین محبی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کس طریقے سے اور کب دوبارہ کھولا جائے گا، اس کا براہِ راست انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا ایران کی ان شرائط کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔
جنرل حسین محبی نے کہا کہ خطے میں نقل و حمل کے راستوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ’دشمن‘ کو ایران کی قانونی اور منطقی شرائط مکمل طور پر تسلیم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مکمل طور پر مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جب امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرلے گا تو یقینی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری حالات پیدا ہو جائیں گے۔