فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے 2030 میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیفا کو اپنے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے پر رکن تنظیموں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق فیفا نے 64 ٹیموں کی تجویز کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقی عمل شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اقتصادی، انتظامی اور کھیل پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اداروں کی تلاش جاری ہے۔
فیفا کی جانب سے اس حوالے سے جاری ایک دستاویز کے مطابق منتخب ہونے والے ادارے کا انتخاب 14 اگست کو کیا جائے گا، جب کہ اسے 11 ستمبر تک رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس معاملے پر رواں سال ہی کوئی فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو پہلے ہی ورلڈ کپ کے بعض تجارتی حقوق نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی مجوزہ منصوبہ بندی پر تنقید کی زد میں ہیں۔
چند روز قبل جیانی انفینٹینو نے ایک منصوبے کی تجویز دنیا کے سامنے رکھی تھی، جس میں انہوں نے ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز‘ کے نام سے 20 ارب ڈالر مالیت کا ایک ادارہ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اس منصوبے میں امریکی جوشوا کشنر کا نام بھی سامنے آیا تھا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔
یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے خبردار کیا تھا کہ اگر فیفا نے ورلڈ کپ کے تجارتی ڈھانچے سے متعلق منصوبہ واپس نہ لیا تو یورپی ٹیمیں مستقبل کے ٹورنامنٹس کا بائیکاٹ کرسکتی ہیں۔
دی گارجین کے مطابق فیفا نے 64 ٹیموں سے متعلق تجویز پر بھی رکن فٹبال ایسوسی ایشنز کو آگاہ نہیں کیا تھا، جس پر گزشتہ متنازع فیصلے کی طرح پھر سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فیفا کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق ٹینڈر جیتنے والا ادارہ مقابلوں کے معیار، بین الاقوامی فٹبال کیلنڈر اور 64 ٹیموں کے فارمیٹ سے ٹکٹوں، اسپانسرشپ اور میڈیا حقوق کی مد میں متوقع آمدنی پر بھی تفصیلی رپورٹ فراہم کرے گا۔
فیفا ورلڈ کپ 2030 مشترکہ طور پر مراکش، اسپین اور پرتگال میں منعقد ہوگا جب کہ ٹورنامنٹ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں ارجنٹینا، پیراگوئے اور یوراگوئے میں بھی چند میچز کھیلے جائیں گے۔ اگر ٹیموں کی تعداد 64 کر دی جاتی ہے تو امکان ہے کہ ارجنٹینا، پیراگوئے اور یوراگوئے کو کم از کم ایک گروپ کے میچز کی میزبانی کا موقع مل سکے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکی فٹبال کنفیڈریشن کونمیبول اس تجویز کی حامی ہے اور اس نے 64 ٹیموں کے فارمیٹ کی حمایت کی ہے تاہم یوئیفا اور شمالی و وسطی امریکا کی فٹبال تنظیم ورلڈ کپ ٹیموں کی تعداد میں اضافے کی مخالفت کر چکی ہیں۔
دی گارجین نے ہی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ جیانی انفانٹینو اگلے سال دوبارہ فیفا کا صدر منتخب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم تین مدتیں پوری ہونے کی وجہ سے انہیں 2031 کے بعد فیفا کے قوانین کے مطابق یہ عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نئے تجارتی ادارے کے قیام اور اس کے سربراہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ٹیموں کو اس منصوبے کے حق میں ووٹ دینے پر راضی کرنے کے لیے مالی ترغیب دی جارہی ہے۔