مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کو ریاست کے آگے جھکنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر


پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ان کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سیکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔
جمعے کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی کی مجموعی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 31 ہزار آپریشن بلوچستان جبکہ 7 ہزار 177 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور ہر روز اوسطاً 10 دہشت گرد مارے گئے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 پاک فوج کے جوان، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک 28 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بیشتر خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جب کہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی افغان شہری ملوث پائے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حالات قابو سے باہر ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2023 میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی تعداد دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے زیادہ رہی، لیکن اس کے بعد فورسز نے اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ریاست پوری قوت سے ان کا مقابلہ کرے گی۔

ترجمان پاک فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کو ریاست کے سامنے ہر صورت جھکنا ہوگا، ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کا احترام ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منفی تاثر پھیلایا جا رہا ہے جب کہ اصل مسئلہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایلیٹ ازم اور سرداری نظام ہے۔
سیکیورٹی امور پر پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ”ہارڈ اسٹیٹ“ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ملک مسلح افواج کے زیرِ انتظام ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین اور قانون سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں اور کسی کے لیے بھی استثنیٰ نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ میں ایلیٹ ازم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اگر تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں تو پاکستان ایک حقیقی ہارڈ اسٹیٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص اپنے حقوق کی بات کرتا ہے لیکن یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں۔ بعض جگہوں پر حقوق کے لیے نعرے لگائے جاتے ہیں اور بعض مقامات پر اسلحہ اٹھایا جاتا ہے، اگرچہ کچھ مطالبات درست بھی ہو سکتے ہیں لیکن ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کا احترام ہر صورت لازم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آئین ہر شہری کی بنیادی ذمہ داریاں واضح کرتا ہے اور سب کو اپنی ریاست کے ساتھ وفادار ہونا ہوگا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ حقوق کی بات کی جاتی ہے مگر ذمہ داریوں پر کم توجہ دی جاتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے زور دیا کہ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے۔“
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ ایلیٹ ازم اور سرداری نظام ہے، ان کے مطابق بعض بااثر طبقات اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے لیکن ایسے عناصر سے نہیں بلکہ بلوچستان کے اصل اسٹیک ہولڈرز، یعنی وہاں کے عوام سے بات کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض سردار یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے اثر و رسوخ کو پہلے جیسی اہمیت کیوں نہیں دی جا رہی۔ وہ لیویز فورس کو اپنی ذاتی فورس سمجھتے ہیں، اسمگلنگ کے لیے پرمٹ مانگتے ہیں اور سرکاری بھرتیوں، ترقیاتی بجٹ اور وسائل میں حصہ چاہتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اسمگل شدہ ڈیزل لا کر کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے جب کہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے مگر کچھ سردار استحصالی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک مشترک پہلو دہشت گردی کی سرپرستی ہے، اس کے ساتھ ساتھ احساسِ محرومی، احساسِ غیر نمائندگی اور لاپتہ افراد کے معاملے کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر تقریباً ساڑھے تین لاکھ آبادی کا شہر ہے، جہاں اس وقت تین جامعات قائم ہیں، جو اس خطے میں تعلیمی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں فی کس آمدن 75 ہزارسے زائد ہے، بلوچستان میں مسنگ پرسن کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مسنگ پرسن کمیشن بنایا گیا، کمیشن ریکارڈ کے مطابق 166 افراد لاپتہ ہیں، جو دہشت گردی مارا جاتا ہے وہ لاپتہ افراد کی فہرست میں ہوتا ہے، 100 فیصد لاپتہ افراد بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوتا ہے 4 اینگل سے ویڈیو بنائی جاتی ہے، بلوچستان میں اہلکار انتہائی سخت حالات میں ڈیوٹی دیتے ہیں، سردار کہتے ہیں کہ ایف سی کیا کررہی ہے، فتنہ الہندوستان اور خوارج کے مائی باپ را اور آر ایس ایس ہیں، بلوچستان میں 187 افراد کو شہید کیا گیا اور 55 افراد اغوا کیے گئے جب کہ 60 مقامات پر آگ لگائی گئی اور 47 مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا، بلوچستان میں 105 حملے پولیس اور فوج پر کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گرد بینک ڈکیتیاں اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں، پل اور سڑکیں تباہ کرکے کہتے ہیں کہ یہاں ترقی نہیں ہورہی، سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، دہشت گردی کے واقعے پر پہلا رد عمل پولیس کا ہوتا ہے، پولیس کی استعداد کار بڑھانے پر بہت کام ہورہا ہے، باتیں کرنے والوں نے لیویز کو سرداری فورس کیوں بنایا۔
نیوز بریفنگ کے دوران پولیس کے شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بلوچستان پولیس دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کررہی ہے، متعدد پولیس افسران اوراہلکاروں نےجام شہادت نوش کیا، دہشت گرد حملوں کی ویڈیوبنائی جاتی ہیں، بھارتی میڈیا ان ویڈیوز کی تشہیر کرتا ہے، دہشت گردوں کو نشان عبرت بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچیوں کو ٹریپ کرکے دہشت گردی میں استعمال کیا جاتا ہے، افغانستان میں نام نہاد شریعت آچکی ہے تو آپ وہاں کیوں نہیں جاتے۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق بھرپور انداز میں جاری ہے، افغان طالبان رجیم کو دہشت گردی کی قیمت ادا کرنی ہوگی، کالعدم بی ایل اے اسمگلرز کو تعاون فراہم کرتی ہے، ایران کے تیل کی اسمگلنگ میں نیٹ ورک سرگرم ہے، تیل کی اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردی پر خرچ ہوتا ہے، بلوچستان کی سب سے بڑی طاقت یہاں کے نوجوان ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم اور بھارت کی سوچ ایک ہے، افغانستان کے عوام کا افغان طالبان رجیم سے کوئی تعلق نہیں، طالبان کا حلیہ مسلمانوں والا ہے مگر طرز عمل نہیں، قرآن پاک میں حکم ہے کہ کفار کو دوست نہ بناؤ، طالبان کفار سے اپنا ڈی این اے ملارہے ہیں، بھارت اور طالبان کا رشتہ آقا اور غلام کا ہے، آر ایس ایس مسلمانوں پر ظلم کرتی ہے، طالبان اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں، طالبان ہمیشہ سے پیسوں کے آگے جھکتے آرہے ہیں، بھارت اور طالبان کے ڈی این اے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا اور ہمشیہ رہے گا، مقبوضہ کشمیر میں ظالم نظام ہے، اس لیے لوگ یہاں آتے ہیں، ریاست پاکستان کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آئی، ہم محافظ حرمین شریفین ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیری قیادت کو خریدنے کی کوشش کی لیکن کشمیریوں نے ثابت کیا کہ وہ برائے فروخت نہیں، آج بھی کشمیر سے آواز اٹھتی ہے، ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرکے عوام کے جذبےکو دبا نہیں سکا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا، مقبوضہ کشمیر میں اجازت کے بغیر دوسرے گاؤں نہیں جاسکتے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبے کو یہ دبا نہیں سکے، پہلگام اور پلواما جیسے ڈرامے رچائے جاتے ہیں، ہر بار بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، اب بھارت نے باریک واردات ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، بھارت نے آزاد کشمیر میں حقوق کے نام پر گیم چلائی، کہتے ہیں مقبوضہ کشمیر سے آنے والوں کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیئے، ریاست نے کہا کہ آئین میں تبدیلی کرکے مطالبات منوالیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 سیٹوں کا ایجنڈا واضح ہوتا جارہا ہے، جس کو یہ قابض کہتے ہیں اس میں ایک لاکھ کشمیری ہیں، پاک فوج میں 2 کور کمانڈر کشمیری ہیں، فوجیوں، کشمیریوں اور پاکستانیوں نے کشمیر کے لیے جان دی۔
پاک یو اے ای تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ تعلقات ہیں، سب کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب میں خصوصی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک تعلقات میں بہت گہرائی ہوتی ہے، پاکستان کی سعودی عرب سےجذباتی وابستگی ہے، اللہ نے پاکستان کو محافظ حرمین شریفین کا اعزاز دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles