‘نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے’؛ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے رشتے میں دراڑ؟

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے رویے پر کھلے عام ناگواری اور بیزاری کا اظہار کیا اور کہا کہ ”نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں“۔

منگل کو امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے نجی نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے بی بی سے یہ سب سننے کی ضرورت نہیں ہے، بی بی مجھے یہ باتیں صرف اس لیے بتا رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں“۔

امریکی صدر نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے پاس معلومات تھیں تو تم نے مجھے براہ راست کیوں نہیں بتائیں، پوری دنیا کے سامنے اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پک ایکس پر کیا ہو رہا ہے اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے“۔

اس عوامی تنقید اور کھچاؤ کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اوول آفس میں بند کمرہ ملاقات ہوئی، جس میں صحافیوں کو آنے یا سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ”یہ نشست مثبت اور پیداواری رہی“۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس ملاقات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی اب تک کی بہترین گفتگو قرار دیا۔

نیتن یاہو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ”جب میں اسے بہترین کہہ رہا ہوں تو اس کا مطلب کوئی سطحی بات نہیں ہے، یہ گفتگو مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر ایک جیسے فہم پر مبنی تھی کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں“۔

یہ ملاقات ایک ایسے حساس وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں اور انہوں نے عارضی طور پر فضائی حملے روک رکھے ہیں۔ اس کے برعکس نیتن یاہو کی حکومت ایران میں حکومت کی تبدیلی اور عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کے حق میں ہے۔

امریکی عوام اور خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے طبقے میں اس جنگ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور امریکی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو امریکا کو مزید جنگوں میں دھکیل رہے ہیں۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو جدید ایف 35 طیاروں کی فراہمی پر اسرائیلی مخالفت کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھ رہے ہیں جو ہمارے بغیر وجود بھی نہیں رکھ سکتے، اور آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بغیر کون باقی نہیں رہ سکتا، وہ اسرائیل ہے“۔

نیتن یاہو کے لیے یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریب تعلقات کو ظاہر کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles