
امریکی حکومت نے چین کے بنائے ہوئے نئے انسان نما جدید (ہیومنائیڈ) روبوٹس اور پاور انورٹرز کی ملکی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکا کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور توانائی کے نظام کو ممکنہ سائبر خطرات اور قومی سلامتی کے خدشات سے محفوظ رکھنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدامات امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ایسے نئے چینی روبوٹ اور پاور اِنورٹرز، جو ابھی تک امریکی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرائے گئے، اب امریکا میں درآمد نہیں کیے جا سکیں گے۔
پاور اِنورٹرز وہ آلات ہیں جو سولر سسٹم، بیٹریوں اور دیگر بجلی کے ذرائع سے آنے والی بجلی کو استعمال کے قابل بناتے ہیں اور اسے بجلی کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔
ایف سی سی کا کہنا ہے کہ ان آلات سے سپلائی چین میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے نہ صرف امریکی معیشت اور قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ ادارہ امریکا کی اہم سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے متعلق امریکی سپلائی چین کو ممکنہ رکاوٹوں، ڈیٹا چوری اور سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ مستقبل میں تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں کی پیداوار امریکا کے اندر منتقل ہو اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دونوں ممالک کی کاروباری برادری کی معروضی آراء کو اہمیت دے اور چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے یا ان کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینے سے گریز کرے۔
چینی سفارت خانے نے یہ بھی کہا کہ اگر چین کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو بیجنگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہیومینائیڈ روبوٹس صنعتی اور گھریلو دونوں شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح امریکا میں تیزی سے تعمیر ہونے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے قابلِ اعتماد پاور اِنورٹرز کی ضرورت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
امریکی حکام اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکا کو ایسی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے جیسی ریئر ارتھ منرلز کے معاملے میں پیش آئی، جہاں چین عالمی سپلائی پر نمایاں کنٹرول رکھتا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم معاشی اور سفارتی فائدے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف سی سی کی جانب سے امکان ہے کہ غیر چینی کمپنیوں کو ان پابندیوں سے استثنا دیا جائے، جیسا کہ ماضی میں غیر ملکی ڈرونز اور راؤٹرز سے متعلق بعض فیصلوں میں بھی کیا گیا تھا۔
موجودہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہو گئی ہیں، تاہم ان کا اطلاق صرف ان مصنوعات پر ہوگا جو ابھی تک مارکیٹ میں متعارف نہیں ہوئیں۔ ایف سی سی کے پاس یہ اختیار بھی موجود ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو پہلے سے منظور شدہ مصنوعات کی فروخت کی اجازت بھی واپس لے سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں چین سے متعلق ٹیکنالوجی کے شعبے میں سکیورٹی خدشات کو عالمی سطح پر نمایاں کیا تھا۔ اس وقت امریکی حکومت نے دانشورانہ املاک کی مبینہ چوری اور چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے جاسوسی کے خدشات پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ تاہم بعض مبصرین کے مطابق ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں چین کے حوالے سے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا، خاص طور پر اس وقت جب چین نے گزشتہ برس نایاب معدنیات کی برآمدات پر سخت کنٹرول نافذ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیوں سے سب سے زیادہ اثر چینی کمپنی یونیٹری پر پڑ سکتا ہے، جو ہیومینائیڈ روبوٹس بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کا نمایاں حصہ ہے۔
حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع نے یونیٹری کو ان چینی کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کے فوجی اداروں سے روابط ہو سکتے ہیں۔
یونیٹری نے حال ہی میں امریکی کمپنی اینویڈیا کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے تاکہ اس کے جدید بلیک ویل چپس روبوٹس میں مصنوعی ذہانت کے نظام کے طور پر استعمال کیے جا سکیں۔ اینویڈیا کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکا ہی میں محفوظ رکھا جائے گا اور یونیٹری کے بڑے صارفین امریکی تعلیمی اور تحقیقی ادارے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس حساس معلومات جمع کر سکتے ہیں، جنہیں بیرونی عناصر نگرانی، غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیت بڑھانے یا دور سے روبوٹس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر بعض امریکی قانون سازوں نے ان پابندیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ اور ملکی روبوٹکس صنعت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاور اِنورٹرز کے شعبے میں چین دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، جہاں سنگرو پاور سپلائی اور ہواوے نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں۔ امریکا پہلے ہی ہواوے پر مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں چینی کمپنیوں نے کم قیمتوں کے ذریعے مغربی منڈیوں میں اپنا حصہ بڑھایا ہے، جس کے باعث امریکا اور یورپ میں سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ممکنہ سائبر حملوں سے بچنا چاہتے ہیں جن میں حساس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے 2023 میں سامنے آنے والی ”وولٹ ٹائفون“ نامی مبینہ ہیکنگ مہم کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے، جس میں امریکی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے نجی راؤٹرز کو استعمال کرتے ہوئے اہم امریکی نظاموں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ فی الحال یونٹری، سنگرو اور ہواوے نے امریکی فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔