اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے رہنما منتخب، برطانیہ کے اگلے وزیرِاعظم ہوں گے

برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملک کے نظر انداز علاقوں کو بااختیار بنانے اور ریفارم یو کے پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

برطانیہ کی سیاست میں حالیہ دہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی حامل رہی ہے۔ اس عرصے میں ملک میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو نیا سربراہ مقرر کرلیا ہے۔ یوں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اینڈی برنہم 10 سال میں 7 ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔

برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں عام طور پر حکمران جماعت کا سربراہ ہی ملک کا وزیراعظم بنتا ہے۔ برطانوی عوام براہِ راست وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی طرح اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کو منتخب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہوتی ہے، اس کا سربراہ ہی وزیراعظم قرار پاتا ہے۔

جمعے کے روز سینٹرل لندن میں منعقد ہونے والی لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے بلامقابلہ پارٹی سربراہ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔

لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو پارٹی قیادت کا الیکشن لڑنے کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 80 ارکان (ایم پیز) کی تائید یا نامزدگی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

اینڈی برنہم کو ہاؤس آف کامنز میں موجود پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ 94 فیصد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ لیبر پارٹی سے وابستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈ یونینز اور پارٹی کی مختلف برانچز نے بھی باضابطہ طور پر اینڈی برنہم کے نام کی منظوری دی۔

کیئر اسٹارمر 5 جولائی 2024 کو برطانیہ کے وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ایک تاریخی اور بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ تاہم دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 22 جون کو انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

برطانیہ میں مئی میں ہونے والے کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی ان کے استعفے کی بڑی وجہ بنی تھی اور لیبر پارٹی کے اندر ہی کیئر اسٹارمر کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی تھی۔ کئی اہم وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے واضح اختلافات کی وجہ سے کیئر اسٹارمر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

لیبر پارٹی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو شاہی محل (بکنگھم پیلس) میں کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

ان کے فوراً بعد اینڈی برنہم کنگ چارلس سے ملاقات کریں گے، جہاں برطانوی روایت کے مطابق بادشاہ انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے اور وہ باقاعدہ طور پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) کا چارج سنبھال لیں گے۔

اینڈی برنہم کا سیاسی سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ وہ 2001 سے 2017 تک ویسٹ منسٹر میں رکنِ پارلیمنٹ رہے اور اس دوران ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کی کابینہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ وزیرِ صحت بھی رہے اور دو مرتبہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑا، تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔

بعد ازاں وہ اپنے آبائی علاقے شمال مغربی انگلینڈ کی سیاست میں فعال ہوئے اور 2017 میں قائم ہونے والے گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوگئے۔ اس عہدے پر انہوں نے خود کو ایک مضبوط علاقائی آواز کے طور پر پیش کیا۔

ان کی قیادت میں مانچسٹر کی معیشت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی جب کہ شمال اور جنوب کے درمیان موجود معاشی و سیاسی فرق کو اجاگر کرنے کی وجہ سے انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جانے لگا۔

اینڈی برنہم ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب برطانیہ میں عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ باقاعدہ تقرری کے فوراً بعد اینڈی برنہم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا شکریہ ادا کیا۔

اینڈی برنہم نے اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ان کی حکومت اب لندن کے بجائے ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کو معاشی طاقت بنانے اور عوامی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles