عراق کے شہر نجف میں شہید آیت اللہ خانہ ای کا جنازہ، لاکھوں افراد کی شرکت

ایران کے شہید رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی میت ایران سے عراق کے شہر نجف پہنچا دی گئی، نمازِ جنازہ اور جلوسِ تدفین میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز (حشد الشعبی) نے دعویٰ کیا ہے کہ شرکا کی تعداد 23 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

حشد الشعبی کی جانب سے جاری بیان، جسے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے نشر کیا، میں کہا گیا کہ مختلف شہروں سے زائرین اور سوگواروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شرکا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی اطلاع دی تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت عراق پہنچنے کے بعد نجف میں آخری رسومات کا آغاز کر دیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے جلوس میں شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت ایران اور عراق میں کئی روز پر محیط آخری رسومات کے سلسلے میں نجف منتقل کی گئی۔ اس دوران تہران، قم اور دیگر شہروں میں بھی تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے، جبکہ بعد ازاں میت کو کربلا لے جایا جائے گا اور پھر ایران کے شہر مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں تدفین متوقع ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق نجف کی سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں اور جلوس تقریباً 6 کلومیٹر طویل راستے سے گزر رہا ہے۔ نجف کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد شیعہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین شہر سمجھا جاتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین مذہبی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔

آن لائن سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہزاروں افراد گاڑی کے گرد موجود ہیں جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت رکھے گئے تھے۔ جلوس امام علیؑ کے روضۂ مبارک کی جانب بڑھا، جہاں مرحوم کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

دوسری جانب عراق کے ممتاز شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ علی السیستانی کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی عدم شرکت کی وجہ سیاسی نہیں بلکہ ان کی عمر اور صحت ہے، جبکہ جنوبی عراق میں شدید گرمی بھی اس کی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق نجف کی رسومات کے بعد میت کو کربلا منتقل کیا جائے گا، جہاں بھی بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے، اس کے بعد میت کو ایران واپس لے جایا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles