ایران سے بچ کر امریکا کے طے شدہ راستے پر جانے والے تیل کے بحری جہاز پر حملہ

ایران اور عمان کے درمیان سمندری حدود یعنی آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں ایک تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکر) پر نامعلوم پوجیکٹائل سے حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔

سمندری نگرانی کے برطانوی ادارے ’یو کے ایم ٹی او‘ کے مطابق، یہ واقعہ عمان کے علاقے لیماہ سے آٹھ ناٹیکل میل مشرق کی طرف اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز جنوب کی طرف جا رہا تھا۔

اس حملے میں ایک دھماکہ خیز چیز جہاز کے بائیں حصے پر لگی جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل پھیلنے جیسی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی اور متعلقہ حکام اس واقعے کی پوری تفتیش کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے فوری بعد امریکی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ سے بات کرتے ہوئے دو امریکی اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج نے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے ہیں۔

ان میں سے ایک اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے دونوں جہازوں کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے لیکن کسی بندے کی جان نہیں گئی۔

دوسری طرف، ایران کے سرکاری ادارے ’آئی آر آئی بی‘ نے گمنام ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تیل کا جہاز امریکی بحریہ کی مدد اور تحفظ کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عمان والے راستے سے گزرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، اور بار بار ملنے والی انتباہی وارننگ کو نظر انداز کرنے پر اس جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم، سرکاری ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے باضابطہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران پہلے ہی تمام جہازوں کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ عمانی سمندر کے جنوبی راستے سے نہ گزریں اور اس کا اصرار ہے کہ اس سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی فوج کے ساتھ تال میل یعنی رابطہ کرنا ہوگا۔

یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند دن پہلے ہی امریکا اور ایران نے سمندر میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles