
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارش پر امریکی فٹبالر کا ریڈ کارڈ معاف کیے جانے کے باوجود بیلجیم نے امریکا کو فیفا ورلڈ کپ سے باہر کردیا۔
فیفا پر الزام ہے کہ اس نے سیاسی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوے بالوگن کا ریڈ کارڈ معاف کیا۔ تاہم، پابندی ختم ہونے کے بعد جب بالوگن میدان میں اترے، تب بھی وہ اپنی امریکی ٹیم کو بیلجیم کے ہاتھوں چار ایک کی عبرتناک ہار سے نہ بچا سکے اور امریکہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
فیفا کے صدر انفینٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری عدالتیں اور کمیٹیاں بالکل آزاد اور خود مختار ہو کر کام کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب امریکی صدر ٹرمپ نے خود ان سے رابطہ کر کے اس کیس پر دوبارہ غور کرنے کو کہا تھا، تو انہوں نے ٹرمپ کو صاف بتا دیا تھا کہ بالوگن کا کیس ابھی قانونی عمل سے گزر رہا ہے اور اس کا فیصلہ قانون کے مطابق ہی ہوگا۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بالوگن نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ ہمارا سب سے اچھا کھلاڑی ہے۔ جب وہ آپ کے سب سے اچھے کھلاڑی کو یہ کہہ کر باہر کر دیں کہ تم نہیں کھیل سکتے، تو یہ بہت ناانصافی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ فیفا نے ریڈ کارڈ معاف کرکے بہت ہی شاندار فیصلہ کیا۔ میں نے خود اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ اگر وہ ایک اتنے بڑے کھلاڑی کو کھیلنے کی اجازت نہ دیتے تو فٹبال ورلڈ کپ پر ایک بڑا داغ لگ جاتا۔ میں نے اپنے ان ہی جذبات کا اظہار فیفا کے سامنے کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے میچ کے برازیلی ریفری رافیل کلاؤس پر بھی شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس ریفری کا ماضی دیکھیں تو وہ تھوڑا مشکوک لگتا ہے۔ تاہم برازیل کی فٹبال فیڈریشن نے ریفری پر شک کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ہم رافیل کلاؤس کی ایمانداری پر اٹھنے والے ہر شک کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ ایک بہترین اور پیشہ ور ریفری ہیں جن کا پورا کیریئر ان کی اچھی کارکردگی کا گواہ ہے اور دنیا کے بڑے مقابلوں میں ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔
یہ پورا جھگڑا اس وقت ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا تنازع بن چکا ہے اور یورپ کے فٹبال ادارے یوئیفا نے اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیفا نے حد پار کر دی ہے۔
یوئیفا نے کہا کہ جب اصولوں کی حفاظت کرنے والے ہی اصولوں کو پامال کریں گے تو کھیل کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔
بیلجیم کی فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے کھلاڑی بالوگن کے کھیلنے پر اعتراض اٹھایا تھا، لیکن فیفا نے ان کی اپیل یہ کہہ کر خارج کر دی کہ بیلجیم اس کیس میں براہِ راست فریق نہیں ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی کہا کہ بالوگن کے کیس میں فیفا کا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے اور اس سے ریفری کے فیصلوں کی طاقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
اس معاملے پر فٹبال کی دنیا کے بڑے ناموں نے بھی سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ جرمنی کی ٹیم کے ہونے والے کوچ اور لیورپول کے سابق مینیجر جورگن کلوپ نے کہا کہ یہ ہمارا کھیل ہے، ان کا نہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیانی انفینٹینو نے واقعی آپس میں مل کر یہ معاملہ حل کیا ہے تو یہ سراسر پاگل پن ہے اور اس سے ہر چیز پر سوال اٹھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دو لوگوں کا، جو فٹبال کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے۔
انگلینڈ کی ٹیم کے مینیجر تھامس ٹوخل نے بھی، جن کی ٹیم کے کھلاڑی جیرل کوانسا کو میکسیکو کے خلاف میچ میں ریڈ کارڈ ملا تھا، اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب اس فیصلے کو کون، کب اور کس بنیاد پر بدلے گا؟ یہ میرے لیے بہت عجیب بات ہے۔
یہاں تک کہ فیفا کے سابق صدر سیپ بلیٹر نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ کارڈ سیاسی فون کالوں سے نہیں بلکہ قانون اور ثبوتوں سے بدلے جاتے ہیں۔ اگر امریکی صدر فیفا کے صدر کے کام میں مداخلت کرے گا اور کھلاڑی کو اچانک کھیلنے کی اجازت مل جائے گی، تو یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ فیفا کس طرف جا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ فٹبال کو کبھی بھی سیاسی طاقت کا کھیل نہیں بننا چاہیے۔
یاد رہے کہ بالوگن کو بوسنیا کے خلاف میچ میں ایک کھلاڑی کی ٹانگ پر بوٹ کے کیل مارنے کی وجہ سے ریڈ کارڈ دکھا کر باہر کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر ایک میچ کی خودکار پابندی لگ گئی تھی، لیکن فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے ایک خاص قانون کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی یہ پابندی ایک سال کے لیے معطل کر دی اور ان پر چالیس ہزار ڈالر کا جرمانہ بھی لگایا۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ قانون کے مطابق ریڈ کارڈ کے اثرات کو کچھ وقت کے لیے روکنا ایک زیادہ متوازن فیصلہ ہے۔ اب اس فیصلے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم بھی اپنے کھلاڑی کے ریڈ کارڈ کے خلاف اپیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔