فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کرنے والی ایرانی فٹبال ٹیم کی وطن واپسی پر شائقین نے بھرپور استقبال کیا جب کہ سیکڑوں مداحوں نے قومی پرچم لہراتے ہوئے ٹیم کے حق میں نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جارہے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود ایرانی قومی فٹبال ٹیم کی بدھ کے روز وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکڑوں شائقین، بچوں اور اہلِ خانہ نے ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا۔
مداحوں نے ”ایران، ایران“ کے نعرے لگائے، قومی پرچم لہرائے اور قومی ٹیم کی جرسی پہن کر کھلاڑیوں کا خیرمقدم کیا۔ ٹیم ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران پہنچی، جہاں ورلڈ کپ کے دوران اس کا بیس کیمپ قائم تھا۔

کھلاڑیوں کے طیارے سے اترنے پر فوجی بینڈ نے قومی ترانہ بھی پیش کیا جب کہ متعدد شائقین نے گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے بیلجیئم کے خلاف میچ میں عمدہ کارکردگی دکھائی تھی۔
اس موقع پر علی رضا بیرانوند نے شائقین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنے پر معذرت خواہ ہیں اور انہیں خوشی نہ دے سکے جس پر افسوس ہے۔

دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے کہا کہ ان کی ٹیم مزید آگے جانے کی مستحق تھی تاہم امریکی امیگریشن پابندیوں نے ان کے لیے حالات مزید مشکل بنا دیے۔
ایئرپورٹ پر موجود شائقین نے بھی قومی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ ایک خاتون مداح مونا بنی صفا نے کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنی بھرپور کوشش کی اور وہ ان کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات بہتر ہوتے تو ٹیم بہتر نتائج حاصل کر سکتی تھی۔

ورلڈ کپ میں ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے بعد تیسرے نمبر پر رہا تاہم بہتر گول فرق نہ ہونے کے باعث بہترین 8 تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکا اور ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی سے محروم رہا۔
رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران ایران کی مہم پر سفری اور انتظامی مسائل بھی اثرانداز رہے۔ ایرانی وفد کے متعدد ارکان کو امریکی ویزے نہ ملنے کے باعث ٹیم نے اپنا بیس کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کیا جب کہ امریکی حکام کی جانب سے عائد سفری پابندیوں پر بھی ایرانی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا۔