دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات جاری

امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا، عبوری معاہدے پر عمل درآمد اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات منگل کی شب شروع ہوئے، جو بدھ کو بھی جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے ثالثوں کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ ماہ طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کے تحت ہو رہے ہیں، جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ دورِ مذاکرات میں ایران کی ترجیح آبنائے ہرمز کے انتظامی امور اور ایران کے منجمد 6 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل کرنا ہے، جب کہ امریکا کی بنیادی ترجیح آبنائے ہرمز سے عالمی تجارتی اور توانائی بردار جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔

ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں، جب کہ وفد میں وزارت خارجہ، مرکزی بینک اور وزارت زراعت کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ وفد نے قطری وزیراعظم سے ملاقات کی اور ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں حصہ لیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کا عمل اچھی پیش رفت کر رہا ہے، تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مذاکرات میں براہِ راست شرکت نہیں کی، تاہم انہوں نے قطری وزیراعظم اور بعد ازاں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور لبنان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

’رائٹرز‘ کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے، تاہم صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اسی دوران ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایک غیر ملکی مال بردار بحری جہاز ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ راستے سے ہٹ کر کم گہرے پانی میں داخل ہونے کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنس گیا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے جنگ سے قبل عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فی صد تجارت ہوتی تھی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles