
پاکستان نے اپنی بہترین سفارت کاری کی بدولت ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے حریفوں یعنی امریکا اور ایران کو آپس میں بات چیت کرنے پر راضی کر لیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی معاملات پر بات چیت کے لیے آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
اس اجلاس میں امریکا کی طرف سے دو رکنی وفد حصہ لے گا، جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس متوقع اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔
عمان میں متعین سابق امریکی سفیر رچرڈ شمیئرر نے پاکستان کے اس اہم کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں ہی امریکا اور ایران ایک بار پھر سے دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا تھا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے خود ہم سے ملاقات کی درخواست کی ہے اور ایران کی اسی درخواست پر یہ ملاقات آج دوحہ میں ہونے جا رہی ہے۔
تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود ایران نے اس بات کی تردید تھی۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول یا وقت طے نہیں کیا گیا، جبکہ ہمارا ایرانی وفد امریکی حکام سے کسی نئی بات چیت کے لیے نہیں بلکہ دوحہ صرف پرانی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے جا رہا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق، اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ قطر جانے والے امریکی نمائندوں کے دورے کا ہمارے ایرانی وفد کے دورے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ان دونوں وفود کے درمیان آپس میں ملنے کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا۔
اس کے ساتھ ہی، قطر میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی کہا ہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تیاریوں کا عمل ابھی تک شروع ہی نہیں ہوا اور انہیں اس بارے میں اب تک کوئی سرکاری یا باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔
ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی پہلے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ قطر کے ساتھ ہمارے معمول کے رابطے تو جاری ہیں، لیکن میڈیا میں چلنے والی تکنیکی مذاکرات کی رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ایسے مذاکرات کا پہلا دور صرف اسی صورت میں ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہوں گی اور دونوں پارٹیاں تاریخ اور جگہ پر متفق ہوں گی۔
ان تمام الگ الگ بیانات کے باوجود، بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری امن معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان دوحہ میں تکنیکی بات چیت کی امیدیں وابستہ ہیں اور کشیدگی کو کم رکھنے کے لیے ثالثوں نے ایک خاص رابطہ نظام بھی بنا رکھا ہے۔