
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں بنے نئے رام مندر میں چندے اور نذرانے کے نام پر آنے والے کروڑوں روپے کے گھپلے کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ مندر اسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں کبھی سولہویں صدی کی تاریخی بابری مسجد ہوا کرتی تھی، جسے1990 کی دہائی میں ایک ہجوم نے شہید کردیا تھا اور اس کے بعد ہونے والے فسادات میں دو ہزار کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھائی سال پہلے خود اس جگہ نئے رام مندر کا افتتاح کیا تھا، لیکن اب اس مندر کو چلانے والے بڑے مینیجرز اور ٹرسٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے عام لوگوں کے دیے گئے لاکھوں ڈالر کے چندے اور سونے چاندی کے نذرانے غائب کر دیے ہیں۔
اس گھپلے پر بات کرتے ہوئے ایودھیا کے ایک 65 سالہ شہری برجیش کمار نے روتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مندر کے مینیجرز نے ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ہے، انہوں نے پیسے نہیں بلکہ ہمارے ایمان کو لوٹا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان لوگوں کا بس چلے تو یہ ایک دن مذہب کے نام پر ہم سب کو بیچ دیں اور اپنی جیبیں بھر لیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مندر کے حساب کتاب کے ایک پرانے سپروائزر مہیپال سنگھ نے چندے میں ہیرا پھیری کا انکشاف کیا۔
اس کے بعد اپوزیشن پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے اس آواز کو آگے بڑھایا اور الزام لگایا کہ مندر سے کروڑوں روپے غائب ہیں۔
عوامی غصے کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کی حکومت نے ایک تفتیشی ٹیم بنائی، جس کے بعد پولیس نے مندر میں پیسے اور سونا گننے والے عملے کے آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسی دباؤ کے باعث مندر ٹرسٹ کے سب سے بڑے اور پرانے سیکریٹری چمپت رائے کو اپنے عہدے سے استعفا دینا پڑا۔
ان گرفتاریوں پر سال 1990 کی دہائی میں بابری مسجد شہید کرنے کے مقدمے میں نامزد کٹر ہندو رہنما سنتوش دوبے بھی شدید غصے میں ہیں۔
انہوں نے ایودھیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس چوری نے مجھے وہ دکھ دیا ہے جسے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تو صرف اتنا کہوں گا کہ ان چوروں کے لیے پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکار، بے ایمان اور بے رحم چور اس رام مندر کو چلا رہے ہیں اور انہوں نے وہاں خوف کا ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ کوئی ان کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں کرتا۔
سنتوش دوبے کا ماننا ہے کہ حکومت اس غصے کو دبا نہیں پائے گی کیونکہ یہ مودی حکومت کے اس دعوے پر بڑا داغ ہے کہ وہ ہندو دھرم کی سب سے بڑی محافظ ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے حکومت پر بڑے چوروں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صرف چھوٹے ملازمین کو گرفتار کر رہی ہے جبکہ اس پورے گھپلے کے پیچھے بیٹھے بڑے مگرمچھوں کو چھپایا جا رہا ہے، اس لیے اس تفتیش کو سب کے سامنے صاف شفاف انداز میں پیش کیا جائے۔
مندر کی تحریک سے جڑے ایک بڑے مذہبی پیشوا کارپاتری مہاراج نے بھی یہی کہا کہ حکومت چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں اتر پردیش میں بڑے الیکشن ہونے والے ہیں اور مودی کی پارٹی ہمیشہ اس رام مندر کے نام پر ووٹ مانگتی آئی ہے، اس لیے یہ اسکینڈل ان کے لیے بہت بڑا سیاسی جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ سیاست کے لیے مذہبی جذبات کو ابھارتے ہیں تو ایسی چیزیں بعد میں خود آپ کے گلے پڑ جاتی ہیں۔