امریکا ایران امن معاہدہ: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باعث قیمتوں میں مزید بڑی گراوٹ محدود رہی۔

جنگ بندی معاہدے کے اثرات عالمی توانائی منڈی پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں اقسام کی قیمتوں میں کمی کے بعد نئی سطحیں سامنے آئی ہیں۔

برینٹ کروڈ کی قیمت میں 16 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 78.80 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔ دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 25 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے بعد 75.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں عالمی معیار کے خام تیل گزشتہ سیشن میں بھی تقریباً 5 فیصد تک گرے تھے، جس کے نتیجے میں قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ اس معاہدے سے توقع کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آ جائے گی، جس سے عالمی توانائی سپلائی میں استحکام پیدا ہوگا۔

مارکیٹ ماہر پریانکا سچدیوا کے مطابق تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی اور جنگی خطرات کا اضافی پریمیم بتدریج ختم ہو رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار خطے میں حالات بہتر ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔ کئی شپنگ کمپنیاں اس وقت تک معمول کے آپریشنز بحال کرنے سے گریز کر رہی ہیں جب تک زمینی حقائق اور سکیورٹی صورتحال واضح نہ ہو جائے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی پیش رفت کا براہ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles