
شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کے ہوشربا انکشافات کئے ہیں۔ پاک فوج کے آپریشن کے دوران خوارج کے چنگل سے بازیاب ہونے والے بچے نے خوارج کی جنسی درندگی کو بے نقاب کردیا۔
بازیاب ہونے والے بچے اکرام اللہ کے مطابق والد کی وفات کے بعد اسے مبینہ طور پر فتنہ الخوارج سے منسلک افراد اپنے ساتھ منظر خیل کے ایک مرکز میں لے گئے، جہاں اسے دیگر بچوں کے ساتھ رکھا گیا۔
اکرام اللہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس مرکز میں مزید تین سے چار بچے بھی موجود تھے اور وہاں ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق اس عمل میں زیادہ تر غیر ملکی عناصر بھی شامل تھے۔
بچے نے مزید بتایا کہ بعد ازاں اسے پلنگزئی منتقل کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر ایک اور مقام پر بھی اس کے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ جاری رہا، جو ایک مذہبی مقام میں قائم مرکز میں پیش آیا۔
اکرام اللہ کے مطابق وہ مختلف اوقات میں کئی افراد کے زیرِ اثر رہا، تاہم بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بازیاب کرایا۔
دوسری جانب سکیورٹی حکام کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خوارج کی طرف سے بچوں کا جنسی استحصال اور اس کیلئے مساجد کا استعمال انتہائی مکروہ فعل ہے ،مساجد کی بے حرمتی پر ہر مسلمان انتہائی دکھی ہے، معصوم لوگوں کے قتل عام اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا فتنہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔