
برطانیہ کی ایک عدالت نے فلسطین کے حامی چار کارکنوں کو 2024 میں اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ایک کارخانے پر دھاوا بولنے کے مقدمے میں طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
برطانیہ کی عدالت نے جمعے کے روز فلسطین کے حامی چار کارکنوں کو 2024 میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے برطانیہ میں قائم ایک کارخانے پر حملے کے الزام میں قید کی سزائیں سنائیں۔
یہ کارروائی جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقے برسٹل کے قریب واقع ایلبٹ سسٹمز یو کے کی فیکٹری میں کی گئی تھی۔ کارکنوں کا تعلق فلسطین ایکشن نامی تنظیم سے تھا، جس پر حال ہی میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
عدالت میں جج جیریمی جانسن نے کہا کہ اس جرم کا ”دہشت گردی سے تعلق“ موجود ہے کیونکہ کارروائی کے دوران اسرائیلی اسلحے کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور ملزمان کا مقصد برطانوی حکومت کو اسرائیل کی حمایت ختم کرنے پر مجبور کرنا اور کمپنی کو خوفزدہ کرنا تھا۔
استغاثہ کے مطابق کارکنوں کی کارروائی سے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی کو 10 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 13 لاکھ 40 ہزار ڈالر) سے زائد کا نقصان پہنچا۔
سزا پانے والوں میں 30 سالہ شارلٹ ہیڈ، 23 سالہ سیموئل کارنر، 30 سالہ لیونا کامیو اور 21 سالہ فاطمہ زینب رجوانی شامل ہیں۔
عدالت نے سیموئل کارنر کو سب سے زیادہ سات سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ جج نے کہا کہ انہوں نے کارروائی کے دوران ”انتہائی اور غیر ضروری“ طاقت کا استعمال کیا اور پولیس افسر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا۔ عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ ان کا آٹزم اس رویے کی وضاحت کرتا ہے۔
دوسری جانب فلسطین ایکشن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسے ڈرونز اور ہتھیاروں کو ناکارہ بنانا تھا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غزہ میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
کارکنوں کی حمایت کرنے والی تنظیم فلٹن 25 ڈیفنس کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں 40 ہتھیار تباہ کیے گئے، جن میں ایسے ڈرونز بھی شامل تھے جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔
سزا سنائے جانے کے موقع پر عدالت کے باہر تقریباً 500 مظاہرین جمع ہوئے اور چاروں کارکنوں کے حق میں احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کی حمایت میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھانے پر 72 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔