
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مختلف آمدنی سلیبس پر ٹیکس کی شرحیں کم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جبکہ 9 فیصد سرچارج ختم کرنے اور متعدد شعبوں پر سپر ٹیکس میں بھی کمی یا خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں نمایاں ریلیف کی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آمدنی کے چار مختلف سلیبس میں ٹیکس کی شرحیں کم کی جا رہی ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں ملازمین کو اضافی ریلیف ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباری اداروں اور کمپنیوں کی چھ سلیبس پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
برآمدی شعبے کے لیے بھی ریلیف تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت ایکسپورٹ پر عائد 2 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کم کر کے 1.2 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، غیر ملکی اثاثے رکھنے والے افراد پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تنخواہ دار طبقے، کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات کو سہولت فراہم کرنا اور معیشت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔