امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر حتمی فیصلہ ہوچکا: وزیراعظم


وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ جلد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں امن معاہدے پر حتمی فیصلہ ہوچکا، اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے فریقین سے مل کر کام کررہے ہیں۔
جمعے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایران امریکا معاہدے پر اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، ایران صدر، مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران میں امن معاہدہ پرحتمی فیصلہ ہوچکا ہے، پاکستان اب اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے فریقین سے مل کر کام کررہا ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے والوں کی کوششوں سے واقف ہیں، جو امن معاہدے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں ان کی کوشیش کامیاب نہیں ہوں گی، امریکا ایران مذاکرات میں امن کے اتنا قریب کبھی نہیں تھے جتنا اب ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کے کل سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونے کا امکان ہے، اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شریک ہوں گے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت حتمی مرحلے کے قریب ترین مرحلے میں ہے، معاہدے کی تکمیل تک میڈیا سے گزارش ہے مندرجات پر قیاس آرائیاں نہ کریں، ذمہ دار اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مذکورہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایرانی میڈیا نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا تھا، جسے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کا مقصد رواں سال 28 فروری سے جاری ایران-امریکا جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ان نکات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور اسے ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید جائزے اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان اس تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، اس سے قبل اپریل 2026 میں پاکستان کی ثالثی ہی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اور اسلام آباد میں ”اسلام آباد مذاکرات“ کے نام سے براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے ادوار بھی منعقد ہوئے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles