
ایرانی میڈیا نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا ہے، جسے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کا مقصد رواں سال 28 فروری سے جاری ایران-امریکا جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے جمعے کو سامنے لائے گئے مسودے میں ممکنہ مفاہمتی معاہدے کی نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ان نکات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق یہ مسودہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کی جانب سے سامنے آیا ہے، جو ایران کے اعلیٰ حکام میں زیرِ غور ہے اور اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
مسودے کے مطابق ممکنہ معاہدے کی پہلی شق میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری شق کے مطابق امریکا ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور ایران کی خودمختاری کا احترام کرنے کا پابند ہوگا۔
مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایران کے خلاف بحری محاصرہ 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے گا جب کہ چوتھی شق کے مطابق امریکا ایران کے اطراف کے علاقوں سے اپنے فوجی دستے واپس بلائے گا۔
پانچویں شق آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو 30 دن کے اندر ایرانی انتظامات کے تحت دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
اقتصادی معاملات سے متعلق شقوں میں ایران کے لیے نمایاں ریلیف کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ اشیا کی فروخت پر عائد پابندیاں معطل کی جائیں گی اور ایران کو اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی دی جائے گی۔
ساتویں شق کے تحت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کرنے ہوں گے۔
مسودے میں 60 روزہ مذاکراتی عمل کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔ اس شق کے مطابق امریکا کی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے تحت عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔
ممکنہ مفاہمتی یادداشت کی نویں شق میں ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کی دوبارہ توثیق شامل ہے۔
مسودے کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور ایران پر کوئی نئی پابندی بھی عائد نہیں کرے گا۔
ایک اور شق میں کہا گیا ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے حوالے کر دی جائے گی۔
معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی نگرانی کا نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب کہ ایک شق حتمی معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے توثیق سے متعلق ہے۔
مسودے کی آخری شق کے مطابق حتمی مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک منجمد ایرانی اثاثوں کی نصف رقم جاری نہ کر دی جائے، تیل سے متعلق پابندیاں معطل نہ ہو جائیں اور بحری محاصرہ ختم نہ کر دیا جائے۔
اسی شق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ صرف افزودہ جوہری مواد، یورینیم افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی تعمیرِ نو تک محدود ہوگا۔ ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے ایجنڈے سے مکمل طور پر خارج رکھا جائے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور اسے ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید جائزے اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔