
کویت نے گھریلو ملازمین کی بھرتی کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نئی پابندیاں اور اجازت نامے جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت اب صرف مخصوص 10 ممالک سے ہی گھریلو ملازمین کی بھرتی کی جا سکے گی جبکہ 27 دیگر ممالک سے اس عمل پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ کویت کی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نئے سرکلر کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق یہ اقدام مختلف سرکاری اداروں کی سفارشات اور مشاہدات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن میں وزارت خارجہ، وزارت صحت اور پبلک اتھارٹی فار مین پاور شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد گھریلو ملازمین کی بھرتی کے شعبے کو مزید منظم کرنا اور اس پر بہتر نگرانی قائم کرنا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق اب گھریلو ملازمین کی بھرتی صرف چند منظور شدہ ممالک سے کی جا سکے گی، جن میں ساؤتھ افریقہ، بینن، اریٹیریا، ایتھوپیا، فلپائن، سری لنکا، بھارت، ویتنام اور نیپال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینیگال سے بھی بھرتی کی اجازت ہوگی، تاہم وہاں سے صرف مرد گھریلو ملازمین ہی کویت لائے جا سکیں گے۔
نیا سرکلر کویت کے رہائشی امور کے دفاتر اور سروس سینٹرز میں بھیج دیا گیا ہے اور یہ حالیہ اپڈیٹ کے بعد نافذ العمل ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق بھرتی کے تمام طریقہ کار اب ملک کے مختلف گورنریٹس کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے تاکہ نظام کو زیادہ شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
دوسری جانب نئی ہدایات میں 27 ممالک کی فہرست بھی شامل ہے جن سے گھریلو ملازمین کی بھرتی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان ممالک میں ایشیائی ملک بھوٹان اور مڈغاسکر کے ساتھ ساتھ افریقی ممالک کینیا، یوگنڈا، نائجیریا، ٹوگو، ملاوی، چاڈ، جبوتی، نائجر، گنی، گنی بساؤ، کیپ وردے، سیرالیون، لائبیریا، مالی، برکینا فاسو، گیمبیا، کیمرون، استوائی گنی، وسطی افریقی جمہوریہ، جمہوریہ کانگو، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، روانڈا، برونڈی اور انگولا شامل ہیں۔
کچھ ممالک کے حوالے سے یہ پابندیاں جزوی نوعیت کی ہیں، جہاں خواتین گھریلو ملازمین کی بھرتی پر پابندی ہوگی جبکہ مردوں کی بھرتی کی اجازت برقرار رہے گی۔
کویتی حکام کے مطابق یہ نئی پالیسی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد گھریلو لیبر مارکیٹ کو بہتر کنٹرول میں لانا، انتظامی عمل کو جدید بنانا اور اس شعبے میں قواعد و ضوابط کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔