امریکی ثالثی ناکام ؟ لبنان جنگ بندی پر عمل نہ ہوسکا، اسرائیلی حملے جاری

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے نہ رک سکے۔ اسرائیلی کارروائیوں میں جاں بحق افراد کی تعداد ساڑھے 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ایران نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے زیر غور معاہدے میں موجود ابہامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششوں پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے حکام کے درمیان واشنگٹن میں امریکی ثالثی کے ذریعے نئی جنگ بندی پر اتفاق کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3,526 افراد جاں بحق جبکہ 10,733 زخمی ہو چکے ہیں۔ مسلسل حملوں کے باعث انسانی نقصان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے مجوزہ جنگ بندی کو ”ڈھونگ“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود رہیں گی، شمالی اسرائیل حزب اللہ کے حملوں کی زد میں رہے گا۔

نعیم قاسم نے واضح کیا کہ محدود نوعیت کی جنگ بندی قابل قبول نہیں اور حزب اللہ صرف مکمل جنگ بندی اور لبنان سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کو ہی قابل قبول سمجھتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی اسرائیل پر مزید حملے کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے زیر غور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں اب بھی کئی ”ابہام“ موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر واشنگٹن کی شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ ایران کے مطالبات کو غیر واضح رکھا جا رہا ہے۔

دریں اثنا واشنگٹن میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوجی کارروائیوں نے واقعی ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں، تو پھر ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

مبصرین کے مطابق جنگ کے طویل ہونے اور سفارتی مذاکرات میں تعطل برقرار رہنے سے وائٹ ہاؤس کے لیے اپنی فوجی کامیابی کے دعوؤں اور مذاکراتی کوششوں کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اپریل میں بھی ایک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles