
اسلام آباد کو جدید اسمارٹ سٹی بنانے اور نظامِ حکمرانی میں بڑی تبدیلیوں کے لیے پانچ سالہ مرحلہ وار اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈا ”اڑان پاکستان“ اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہے۔
اہم تجویز کے تحت اسلام آباد کے لیے منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسمبلی اپنا سربراہ منتخب کرے گی، جس کا عہدہ وزیراعلیٰ یا میئر جیسا ہو سکتا ہے۔
مجوزہ نظام کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے سوا بیشتر اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر وفاقی اداروں کے متعدد اختیارات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) حکومت کو منتقل کیے جائیں۔
مزید یہ کہ مقامی ٹیکس، وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی منتقلی کیلئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس کے شعبوں میں 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے ایک یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کی سفارش بھی شامل ہے۔