
ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جب کہ زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی ہے۔
منگل کے روز پنجاب کے مختلف شہروں لاہور، گوجرنوالہ، منڈی بہاؤ الدین، جہلم، اوکاڑہ، شیخوپورہ، پھالیہ، ملکوال، دیپالپور اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹراسکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ زلزلے کی گہرائی 18 کلو میٹر تھی اور زلزلے کا مرکز گوجرنوالہ تھا۔
زلزلے کے جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے جب کہ زلزلے سے کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلے کے جھٹکے سوات، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں محسوس کیے گئے جب کہ ساہیوال اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔
زلزلے کی لہر 15 سے 20 سیکنڈ تک برقرار رہی تھی، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر نکل آئے تھے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ زمین میں زلزلے کی گہرائی 170 کلومیٹر تھی اور زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔
زلزلہ کیوں اور کیسے آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔
پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔